انوار خلافت — Page 170
12 • لا دیتا ہوں وہ پیسے لے کر انگور خرید لایا اور ان کے سامنے رکھ دیئے وہ سارے ان کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور کھانے لگ گئے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو حضرت کرشن،حضرت بدھ ، حضرت مسیح اور آنحضرت مال یتیم کی زبان سے ان کے دوبارہ آنے کے متعلق پیشگوئی کرائی تھی وہ بھی جب پوری ہوئی تو ایک ہی آدمی کے حق میں نکلی وہ کرشن بھی تھا ، وہ بدھ بھی تھا، وہ مسیح بھی تھا، اور وہ محمد بھی تھا۔خدا تعالیٰ نے ہر ایک قوم کی طرف سے ایک ایک پہنچ مقرر کیا تھا جس کے فیصلہ کے حق ہونے پر وہ یقین رکھتے تھے اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار تھے۔چنانچہ جب ہندوؤں نے کہا کہ کرشن ہمارا سردار ہے جو کچھ وہ کہے ہم اس کے ماننے کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ اسی کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔اسی طرح بدھوں نے کہا کہ بدھ ہمارا آقا ہے جو کچھ وہ کہے اس کے ماننے سے ہمیں ذرا بھی انکار نہیں ہوسکتا تو خدا نے کہا کہ اسی کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔اسی طرح جب عیسائیوں نے کہا کہ حضرت مسیح کی ہر ایک بات ہم دل و جان سے مانتے ہیں تو خدا نے کہا کہ اسی کو بھیجا جائے گا۔اور اسی طرح مسلمانوں نے کہا کہ آنحضرت صلی یا پیام ہمارے بادی اور راہنما ہیں ان کے مونہہ سے نکلی ہوئی ہر ایک بات کا ماننا ہم پر فرض ہے تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ انہی کو ہم دوبارہ مبعوث فرماویں گے۔یوں خدا تعالیٰ نے ان قوموں سے ان پہنچوں کو قبول کر والیا۔تا کہ جب یہ آئیں تو ان کے فیصلہ کو ماننے میں انہیں کوئی تردد نہ ہو اور سب ایک دین پر قائم ہو جائیں۔چنانچہ یہ چاروں پہنچ آئے مگر چاروں الگ الگ ہو کر نہیں بلکہ ایک ہی بن کر۔اب ہندوؤں پر یہ حجت پوری ہوئی کہ تمہارے لئے حضرت کرشن کا فیصلہ ماناضروری ہے۔پس جبکہ کرشن آ گیا ہے تو اس کے فیصلہ کو مان لو۔بدھوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا قائم مقام حضرت بدھ آ گیا۔مسیحیوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا قرار دادہ مسیح آ گیا۔اور مسلمانوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا منتخب کردہ پین محمد سلایا کہ ہم آ گیا۔خدا تعالیٰ نے تو سب مذاہب کو ایک