انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 193

انوار خلافت — Page 171

بنانے کے لئے یہ تدبیر کی تھی۔لیکن غلطی اور نا سمجھی سے ہندوؤ نے سمجھا کہ کرشن آکر ہمارے ہی مذہب کو پھیلائیں گے اور باقی کو نیست و نابود کر دیں گے۔یہی بات بدھوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے آنے والے نبیوں کے متعلق خیال کر لی۔انہوں نے تو صلح کرانے کے لئے اور لڑائی جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے آنا تھا لیکن سمجھا یہ گیا کہ وہ آ کر کشت وخون کا بازار گرم کریں گے۔یہ ایک ایسی غلط فہمی ہر ایک مذہب والوں کے دلوں میں بیٹھ گئی کہ جس کا اس وقت تک دور ہونا مشکل تھا جب تک کہ وہ انسان نہ آتا جس کے وہ منتظر بیٹھے تھے۔چنانچہ وہ آیا اور اس نے آکر ثابت کر دیا کہ جو جو خیالات تمہارے دلوں میں ہیں وہ غلط اور بیہودہ ہیں۔میں ہی وہ ہوں جو تمہارے سب کے لئے آنے والا تھا تا کہ تم کو ایک کروں اور ایک مذہب پر قائم کر کے خدا تعالیٰ کے ایک ہی دین کو تمام دینوں پر غالب کروں۔چنانچہ اس نے یہ سب کچھ اس زمانے میں کر کے دکھا دیا۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی ایسا زمانہ ہے جس میں یہ مقصد پورا ہوسکتا ہے اور اسی زمانہ میں کسی ایسے انسان کو آنا چاہئے تھا جو ایک دین پر سب کو قائم کرتا۔اور پھر وہ سب علامتیں بھی اس زمانہ میں پوری ہو رہی ہیں جو حضرت کرشن، حضرت بدھ ، حضرت مسیح اور مہدی کی آمد پر پوری ہوئی تھیں۔پس جب کہ زمانہ کے حالات اور واقعات پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ ہر ایک مذہب کے آنے والے کا یہی وقت ہے۔اور پھر جبکہ جو علامتیں مقرر کی گئی تھیں وہ بھی پوری ہو گئی ہیں۔تو آنے والوں کو بھی آجانا چاہئے۔لیکن ان سب کی طرف سے ایک ہی مدعی کھڑا ہوا ہے جس نے کہا کہ میں کرشن ہوں، میں بدھ ہوں۔میں مسیح “ ہوں اور میں مہدی ہوں۔پس وہی ان تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والا ٹھہرا۔اور اگر پہلے نبیوں کو سچا سمجھا جائے تو اسے قبول کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔اب اگر کوئی کہے کہ اس ایک کے آنے سے تو ایک فرقہ دنیا میں زائد ہو گیا اور بجائے پہلے