انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 193

انوار خلافت — Page 168

۱۶۸ جائے۔اگر آنحضرت سال شما دیپلم فیصلہ کرتے تو آپ ضرور نرمی فرماتے جیسا کہ اس قبیلہ کے دو بھائی قبیلوں سے نرم برتاؤ کر چکے تھے۔لیکن خدا تعالیٰ چونکہ چاہتا تھا کہ انہیں ان کے اعمال کی سزا ملے اس لئے اس نے یہ تدبیر کر دی کہ انہیں کی زبانی ایک شخص مقرر کروا کر انہیں سزا دلوادی۔تو اس مقصد کے لئے بھی کہ تمام دنیا ایک مذہب پر ہو جائے۔خدا تعالیٰ نے اسی طرح ایک تدبیر فرمائی۔تمام دنیا کو ایک مذہب پر لانے کی تدبیر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپس میں لوگوں کے جھگڑے اور فساد ہوتے ہیں۔تو عام طور پر فیصلہ کا طریق یہ مقرر کیا کرتے ہیں کہ کچھ پنچ مقرر کر وائے جاتے ہیں۔یا اس طرح کہ ہر ایک فریق اپنی اپنی طرف سے ایک شخص کو مقرر کر دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ جو کچھ فیصلہ کرے وہ مجھے منظور ہے۔اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی کو فیصلہ کے لئے تمام فریق منتخب کر لیتے ہیں۔دنیا کی تمام حکومتیں بھی اپنے بڑے بڑے امور کی نسبت اسی طرح فیصلے کیا کرتی ہیں کہ اپنی اپنی طرف سے نمائندے مقرر کر دیتی ہیں اور ان کا ساختہ پرداختہ منظور کر لیتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے بھی چاہا کہ مختلف مذاہب کا فیصلہ بھی اسی طرح ہو اس لئے اس نے ایسی تدبیر کی کہ تمام مذاہب میں سے پنچ مقرر کر دیئے۔چونکہ اس کا ارادہ تھا کہ ایک دین کو سب دینوں پر غالب کرے اور ایک ہی دین پر سب کو جمع کرے اس لئے اس نے یہ تدبیر کی کہ حضرت کرشن کے پیروؤں کو کہہ دیا کہ جب دنیا میں لڑائی فساد بہت پھیل جائے گا فسق و فجور بہت بڑھ جائے گا۔اور لوگ خدا کو بھلا دیں گے تو اس وقت کرشن دوبارہ آئے گا۔اور سب بدیوں کو آکر دور کرے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے بدھ مذہب کے پیروؤں کو کہہ دیا کہ جب فتنہ و فساد بڑھ جائے گا اور دنیا خدا سے غافل ہو جائے گی تو اس وقت بدھ دوبارہ آئے گا اور آکر لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرے گا۔اسی طرح مسیحی مذہب والوں کو ان کے