انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 193

انوار خلافت — Page 167

۱۶۷ سے نبی آتے ہیں جو دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہی ہوتے ہیں لیکن ان کے منوانے کے لئے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آسمان سے فرشتے اترے ہوں۔اور آکر کہا ہو کہ ان نبیوں کو مان لو اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ انبیاء کے منکروں پر آسمان سے گولے بر سے ہوں۔بلکہ قحط پڑتے ہیں، زلازل آتے ہیں ،سیلاب آتے ہیں اور بھی بہت سی بلائیں نازل ہوتی ہیں۔لیکن نادان یہی کہتے ہیں کہ یہ کوئی نشان نہیں ہیں یہ تو پہلے بھی ہوا کرتے تھے۔تو خدا تعالیٰ ہر ایک کام کے لئے تدبیر فرماتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلیہ ستم کی کامیابی کے لئے تدبیر کی تھی اس کام کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے تدبیر کی۔آنحضرت صلی ایم کے زمانہ میں بھی خدا نے یہود کو سزا دینے کے لئے ایک تدبیر فرمائی تھی جو یہ تھی کہ جب آنحضرت صلی یا ہم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے کفار سے معاہدہ کیا کہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی فساد نہ کیا جائے اور مدینہ کی حفاظت میں مل کر کام کریں لیکن باوجود اس معاہدہ کے وہ شرارتوں سے باز نہ آتے۔آنحضرت مالی اسلام ان کو معاف کر دیا کرتے لیکن جب حالت بہت خطر ناک ہوگئی اور رسول کریم مان لیا کہ تم پر پتھر گرا کر قتل کرنے کا منصوبہ انہوں نے کیا اور جنگ احزاب کے وقت جبکہ مسلمانوں کی حالت سخت نازک ہورہی تھی بر خلاف معاہدہ کے کفار سے مل کر مسلمانوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ان کے خلاف جنگ کرنے کا حکم ہوا۔لیکن جیسا کہ رسول کریم صال اسلام کا طریق تھا آپ غالباً اس جنگ کے بعد بھی ان لوگوں سے نرمی کرتے لیکن خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ انہیں سزا ہو اس لئے اس نے ایک تدبیر فرمائی۔آنحضرت سلیم نے جب ان یہود کو کہا کہ آؤ میں تمہاری شرارت کے متعلق فیصلہ کروں تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم تمہارا فیصلہ نہیں مانتے۔آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ تم اس معاملہ میں کس کو منصف مقرر کرتے ہو انہوں نے ایک آدمی کا نام لیا۔لیکن جس کا انہوں نے نام لیا تھا اسی نے ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ ان کے سب قابل جنگ مردوں کو قتل کر دیا