انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 193

انوار خلافت — Page 158

۱۵۸ ادھر تو یہ جنگ ہورہی تھی۔ادھر عثمان کے قاتلوں کا گروہ جو معاویہ کے پاس چلا گیا تھا۔اس نے وہاں ایک کہرام مچا دیا۔اور وہ حضرت عثمان کا بدلہ لینے پر آمادہ ہو گئے۔جب حضرت علی کے لشکر سے ان کا لشکر ملا۔اور درمیان میں صلح کی بھی ایک راہ پیدا ہونے لگی تو ایک جماعت فتنہ پردازوں کی حضرت علی کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہو گئی۔اور اس نے یہ شور شروع کر دیا کہ خلیفہ کا وجود ہی خلاف شریعت ہے احکام تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہی ہیں باقی رہا انتظام مملکت سو یہ ایک انجمن کے سپر د ہونا چاہئے۔کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہئے۔اور یہ لوگ خوارج کہلائے۔اب بھی جو لوگ ہمارے مخالف ہیں ان کا یہی دعوی ہے اور ان کے وہی الفاظ ہیں جو خوارج کے تھے۔اور یہ بھی ہماری صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو اس جماعت سے مشابہت حاصل ہے جسے کل مسلمان بالاتفاق کراہت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی غلطی کے معترف ہیں۔ابھی معاملات پوری طرح سمجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرو کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں ان کو قتل کر دو۔چنانچہ ان کے دلیر یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علی کو، ایک حضرت معاویہؓ کو اور ایک عمر و بن العاص کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔جو حضرت معاویہؓ کی طرف گیا تھا اس نے تو حضرت معاویہ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہؓ صرف معمولی زخمی ہوئے۔وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔جو عمر و بن العاص کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لئے نہ آئے جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لئے آیا تھا اس نے اس کو مار دیا اور خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔جو شخص حضرت علی کو مارنے کے لئے نکلا تھا اس نے جبکہ آپ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطر ناک طور پر زخمی ہوئے آپ پر حملہ کرتے وقت اس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علی ! تیرا