انوار خلافت — Page 159
۱۵۹ حق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے (اب بھی غیر مبائعین ہم پر شرک کا الزام لگاتے ہیں ) ان سب واقعات کو معلوم کر کے آپ لوگوں نے معلوم کر لیا ہو گا کہ یہ سب فتنہ انہی لوگوں کا اٹھایا ہوا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے۔اور حضرت عثمان سے واقفیت نہ رکھتے تھے آپ کے حالات نہ جانتے تھے ، آپ کے اخلاص، آپ کے تقویٰ، اور آپ کی طہارت سے ناواقف تھے آپ کی دیانت اور امانت سے بے خبر تھے۔چونکہ ان کو شریروں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ خلیفہ خائن ہے، بددیانت ہے، فضول خرچ ہے، وغیرہ وغیرہ۔اس لئے وہ گھر بیٹھے ہی ان باتوں کو درست مان گئے اور فتنہ کے پھیلانے کا موجب ہوئے۔لیکن اگر وہ مدینہ میں آتے۔حضرت عثمان کی خدمت میں بیٹھتے آپ کے حالات اور خیالات سے واقف ہوتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا جیسا کہ ہوا۔میں نے ان حالات کو بہت مختصر کر دیا ہے ورنہ یہ اتنے لمبے اور ایسے درد ناک ہیں کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس یاد رکھو کہ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے ۷۲ فرقے نہیں بلکہ ۷۲ ہزار فرقے بنا دیئے۔مگر اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ان باتوں کو خوب ذہن نشین کر لو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے واقفیت پیدا کرو۔میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کس زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔پس تم اس بات کو خوب یا درکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو یاد کراؤ تا کہ اس زمانہ میں کامیاب ہو جاؤ۔صحابہ کی درد ناک تاریخ سے فائدہ اٹھاؤ اور وہ باتیں جوان کے لئے مشکلات کا موجب ہوئی ہیں ان کے انسداد کی کوشش کرو۔فتنہ اور فساد