انوار خلافت — Page 134
۱۳۴ کریں گے انہوں نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات کے لئے اس قدر شور کیوں ہے۔ایک آدمی کو خلیفہ کی خدمت میں بھیج دو کہ ہمیں یہ گورنر منظور نہیں وہ اور بھیج دیں گے۔اس بات کے لئے اس قدر اجتماع کیوں ہے؟ یہ بات کہہ کر سعید نے اپنا اونٹ دوڑایا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عثمان کو سب حالات سے آگاہ کیا۔آپ نے فرمایا کسے گورنر بنانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا۔ابو موسیٰ اشعری کو۔فرمایا ہم نے ان کو گورنر مقرر کیا اور ہم ان لوگوں کے پاس کوئی معقول عذر نہ رہنے دیں گے۔جب حضرت ابو موسیٰ اشعری کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے سب لوگوں کو جمع کر کے اس خبر سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا تو آپ ہمیں نماز پڑھا ئیں۔مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ جب تک کہ تم آئندہ کے لئے تو بہ نہ کرو اور حضرت عثمان کی اطاعت کا وعدہ نہ کرو میں تمہاری امامت نہ کروں گا اور تم کو نماز نہ پڑھاؤں گا۔انہوں نے وعدہ کیا تب آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔لیکن فتنہ اس پر بھی ختم نہ ہوا کیونکہ ان لوگوں کی اصل غرض تو خلافت کا اڑانا تھا۔عمال و حکام کی تبدیلی تو صرف ایک بہانہ اور حضرت عثمان کے مظالم ( نعوذ باللہ ) کا اظہار ایک ذریعہ تھے جس سے وہ لوگ جو مدینہ آتے جاتے نہ تھے اور اس برگزیدہ اور پاک انسان کے حالات سے آگاہ نہ تھے وہ دھو کے میں آجاتے تھے اور اگر وہ خود آ کر حضرت عثمان کو دیکھتے تو بھی ان شریروں کے دھوکے میں نہ آتے اور اس فساد میں نہ پڑتے۔غرض یہ فتنہ دن بدن بڑھتا ہی گیا اور آخر حضرت عثمان نے صحابہ کو جمع کیا اور دریافت کیا کہ اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کیا تدبیر کرنی چاہئے۔اس پر مشورہ ہوا اور یہ تجویز ہوئی کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ حکام کی شکایت درست بھی ہے یا نہیں اور اس بات کے معلوم کرنے کے لئے تمام صوبوں میں کچھ ایسے آدمی بھیجے جائیں جو یہ معلوم کریں کہ آیا گورنر ظالم ہیں یا یونہی ان کے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔اس کام کے لئے جو آدمی بھیجے گئے ان سب نے لکھ