انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 193

انوار خلافت — Page 135

۱۳۵ دیا کہ ہر ایک صوبہ میں اچھی طرح امن اور امان قائم ہے۔گورنروں کے متعلق کوئی شکایت نہیں ہے۔لیکن عمار بن یاسر جو مصر میں بھیجے گئے تھے۔ان کو عبد اللہ بن سبا کے ساتھی پہلے ہی مل گئے اور اپنے پاس ہی ان کو رکھا اور لوگوں سے ملنے نہ دیا بلکہ ایسے ہی لوگوں سے ملایا جو اپنے ڈھب کے اور ہم خیال تھے۔اور انہیں سارے جھوٹے قصے سنائے اس لئے وہ ان کے دھوکے میں آگئے۔یہ واقعہ اسی طرح ہوا جس طرح کہ آنحضرت سالم اسلام کے عہد میں ابو جہل کرتا تھا کہ جب لوگ رسول کریم مالی اسلام کو ملنے کے لئے آتے۔تو وہ ان کو روکتا کہ اول تو اس کے پاس ہی نہ جاؤ۔اور اگر جاتے ہو تو اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر جاؤ تا کہ اس کی آواز تمہارے کانوں تک نہ پہنچے۔اسی طرح عمار بن یاسر کو گورنر اور دوسرے امراء مصر سے ملنے ہی نہ دیا گیا۔ان لوگوں کے واپس آنے کے بعد جو تحقیقات کے لئے مختلف بلاد کی طرف بھیجے گئے تھے حضرت عثمان نے مزید احتیاط کے طور پر ایک خط تمام ممالک کے مسلمانوں کی طرف لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ مجھے ہمیشہ سے مسلمانوں کی خیر خواہی مدنظر رہی ہے مگر میں شکایتیں سنتا ہوں کہ بعض مسلمانوں کو بلا وجہ مارا جاتا ہے اور بعض کو بلا وجہ گالیاں دی جاتی ہیں اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ لوگ جن کو شکایت ہو۔اس سال حج کے لئے جمع ہوں اور جو شکایات انہیں ہیں وہ پیش کریں خواہ میرے حکام کے خلاف ہوں خواہ میرے خلاف، میری جان حاضر ہے اگر مجھ پر کوئی شکایت ثابت ہو تو مجھ سے بدلہ لے لیں۔جب یہ خط تمام ممالک کی مساجد میں سنایا گیا۔تو شریروں پر تو کیا اثر ہونا تھا مگر عام مسلمان اس خط کو سن کر بے تاب ہو گئے اور جب یہ خط سنایا گیا تو مساجد میں ایک کہرام مچ گیا اور روتے روتے مسلمانوں کی داڑھیاں تر ہو گئیں اور انہوں نے افسوس کیا کہ چند بد معاشوں کی وجہ سے امیر المؤمنین کو اس قدر صدمہ ہوا ہے۔اور سب جگہ پر حضرت عثمان کے لئے دعا کی گئی۔موسم حج کے قریب حضرت عثمان نے تمام گورنروں کے نام خطوط لکھے کہ حج میں حاضر ہوں۔چنانچہ سب گورنر حاضر ہوئے اور آپ