انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 193

انوار خلافت — Page 10

دے رہے ہیں اور وہ ہار پر ہار کھاتے چلے جا رہے ہیں اس لئے وہ گالیوں پر اتر آئے ہیں ان کے آدمی ہم میں آکر مل رہے ہیں اور وہ دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ان کے پاس ہمارے دلائل اور براہین کا کوئی جواب نہیں ہے اس لئے بد زبانی کے ہتھیار کو استعمال کر رہے ہیں۔دیکھو جب بیعت ہوئی تھی اس وقت جماعت کا اکثر حصہ ان کے ساتھ تھا چنانچہ انہوں نے خود بھی لکھا تھا کہ ہماری طرف جماعت کے بہت آدمی ہیں لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ لَیمَزِ فَتَهُمْ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کی ہڈیاں توڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں گے بلکہ یہ کہ خدا تعالیٰ ان میں سے لوگوں کو تو ڑ تو ڑ کر ہماری طرف لے آئے گا اور ہم میں شامل کر دے گا۔حضرت مسیح موعود " کو بھی یہی الہام ہوا تھا جس کے آپ نے یہی معنی کئے ہیں۔اس میں شک نہیں وہ اس بات سے بھی چڑتے ہیں کہ میں کیوں اپنے الہام اور رویا شائع کرتا ہوں۔لیکن میں کہتا ہوں کہ جب یہ باتیں تمام قوم کے متعلق ہوں تو کیوں نہ انہیں شائع کیا جائے۔بیشک اگر میرے الہام کسی ایک شخص کے ساتھ تعلق رکھتے تو میں بیان نہ کرتا لیکن جب یہ قومی معاملہ ہے تو کیوں چھپایا جائے۔پس اسی لئے میں اپنے وہ رویا جو جماعت کے متعلق ہوں شائع کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔پھر میرے ساتھ ہماری جماعت کے اور لوگوں کو بھی اسی طرح گالیاں دیتے ہیں۔ہم سب کا نام انہوں نے محمودی رکھا ہوا ہے اور اپنے خیال میں ہمیں یہ بھی گالی ہی نکالتے ہیں لیکن نادان یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی گالی نہیں۔آنحضرت سالی اسلم کو بھی کفار گالیاں دیتے تو آپ فرماتے کہ میرا نام محمد ہے جس کے معنی ہیں کہ بہت تعریف کیا گیا پھر مجھے کس طرح گالی لگ سکتی ہے۔اسی طرح عرب کے کفار جب آپ کو گالی دیتے تو اس وقت آنحضرت ماہ کا نام محمد منہ لیتے بلکہ مدتم کہتے۔اس کے متعلق آنحضرت علی فرماتے کہ اگر یہ لوگ میرا نام محمدؐ لے کر گالیاں دیں تو مجھے گالی لگ ہی نہیں سکتی کیونکہ جسے خدا پاک ٹھہرائے کون ہے جو اس کی نسبت