انوار خلافت — Page 74
۷۴ خط آئے تو ان پڑھ چار چار پانچ پانچ دفعہ پڑھاتے پھرتے ہیں۔اور پھر بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی۔لیکن تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے خط آیا ہے ( کتاب کے معنی خط کے بھی ہیں ) اس کو پڑھنے یا پڑھوا کر سنے کی طرف کسی کو توجہ نہیں ہوتی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ قرآن شریف ایسا خط اور آنحضرت مایا تا کہ تم ایسا کیا اور خدا تعالیٰ جیسا خط بھیجنے والا لیکن دنیا اور غافل دنیا نے اس کی کچھ قدر نہ کی۔ایک سات روپیہ کا پٹھی رساں اگر خط لاتا ہے تو پڑھتے پڑھاتے پھرتے ہیں لیکن خاتم الانبیاء کی لائی ہوئی کتاب کو نہیں پڑھتے۔ایک پیسہ کے کارڈ کی عزت کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب کی نہیں کرتے۔کیا قرآن شریف کی قدر ایک پیسہ کے کارڈ کے برابر بھی نہیں ہے پھر کیوں اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔بے شک تم دنیا کے کام کرو۔لیکن تمہارا یہ بھی کام ہے که قرآن شریف کے سیکھنے کی کوشش کرو۔قرآن شریف میں وہ حکمت اور وہ معرفت ہے کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو حیران ہو جائے۔میں تو قرآن شریف کی ایک ایک زیر اورز بر پر حیران ہو ہو جاتا ہوں۔قرآن شریف میں بظاہر ایک لفظ ہوتا ہے لیکن بڑے بڑے مضامین ادا کرتا ہے۔قرآن شریف کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ انسان اس کی طرف سے مونہہ موڑ لے اور توجہ نہ کرے۔خصوصاً ہماری جماعت کا فرض ہے کہ قرآن شریف کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔اس کے سیکھنے کے بہت سے طریق ہیں۔ہماری جماعت پر خدا تعالیٰ کے بڑے فضل ہیں کہ سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو قرآن شریف کے معنی جانتے ہیں اور دوسروں کو پڑھا سکتے ہیں۔غیر احمدیوں نے تو قرآن شریف کو بالکل بھلا دیا ہے اس لئے وہ کچھ نہیں جانتے بلکہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ قرآن شریف کے معنی بلا مددتفاسیر کے کرنے کفر سمجھتے ہیں۔چنانچہ ایک شخص نے مجھے ایک واقعہ سنایا ایک احمدی کچھ لوگوں کو قرآن سنا یا کرتا تھا۔ایک دن خطبہ میں اس نے قرآن شریف پڑھ کر مطلب بیان کیا۔تو ایک شخص کہنے لگا کہ یہ باتیں تو بڑی اچھی کرتا ہے لیکن ہے کافر۔اس کا کیا حق ہے کہ قرآن شریف کے معنی کرے اسے تو چاہئے تھا کہ بیضاوی دیکھتا۔تفسیر کبیر پڑھتا۔یہ قرآن شریف کے معنی