انوار خلافت — Page 45
چوتھی دلیل ۴۵ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُونُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ۔لوگ چاہیں گے کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا۔اگرچہ کافر لوگ اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔یہ آیت بھی حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت سلینا یہ تم اس پیشگوئی کے اول مصداق نہیں ہیں کیونکہ اس آیت میں بتایا ہے کہ اس رسول کے وقت لوگ اس کے سلسلہ کو مونہوں سے مٹانا چاہیں گے۔رسول کریم صلی ایام کے زمانہ کے حالات ہمیں بتا رہے ہیں کہ آپ کے سلسلہ کو مونہہ سے نہیں بلکہ تلوار سے مٹانے کی کوشش کی گئی اور ایسے ایسے مظالم کئے گئے کہ الامان۔اور دلائل سے اسلام کا مقابلہ کرنے کی بہت ہی کم کوشش کی گئی تھی۔پس اس آیت میں ضرور کسی اور زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس میں امن و امان ہوگا اور تلوار کی بجائے زیادہ تر زبانوں سے کام لیا جائے گا اور لوگ مونہوں کی پھونکوں سے اس رسول کے کام کو مٹانا چاہیں گے اور چاہیں گے کہ باتیں بنا بنا کر اس کے کام کو روک دیں اور اس کی ترقی کو بند کر دیں۔اور وہ زمانہ یہی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی منصف حکومت قائم کر دی ہے کہ جس کے زیر سایہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں اور اگر کوئی شخص ظلم کرنے لگے تو یہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔چنانچہ اس وقت ہمارے مخالفوں کے پاس سوائے فتوؤں اور گالیوں کے کچھ نہیں۔اور وہ اپنے فتوؤں سے چاہتے ہیں کہ ہمارے کام کو مٹادیں لیکن ان کے ہاتھ میں ایسے سامان نہیں ہیں کہ جن کے ذریعہ سے زبر دستی وہ کسی کو دین سے پھیر دیں یا اسے قتل کر دیں۔پس یہی زمانہ جبکہ لوگوں کے ہاتھ سے تلوار چھین لی گئی ہے اور صرف مونہ کی لڑائی رہ گئی ہے وہ زمانہ ہو سکتا ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اور آنحضرت سلائی کی ستم کا زمانہ تو وہ تھا کہ تلواروں سے مسلمانوں کو بھیڑ اور بکریوں کی طرح ذبح کیا گیا۔اور عورتوں کی