انوار خلافت — Page 29
۲۹ ہے اور یا یہ مانا جائے کہ اسمہ احمد سے بھی یہ مراد نہیں کہ اس کا نام احمد ہوگا بلکہ یہ کہ اس کی صفت احمد ہوگی۔اور چونکہ رسول کریم سینی یا پیلم کی صفت احمد تھی اس لئے آپ پر اس پیشگوئی کو اس رنگ میں چسپاں کیا جائے لیکن یہ تدبیر بھی کارگر نہیں ہوتی۔کیونکہ جو علامات اس احمد نام یا صفت والے کی اس صورت میں مذکور ہیں وہ رسول کریم سی سی پی تم میں نہیں پائی جاتیں جیسا کہ ابھی بتایا جائے گا۔پس اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ یہ احمد نام یا احمد صفت والا نبی ( جیسی صورت بھی ہو ) آنحضرت سال یا اسلام کے بعد آپ کے خدام میں سے ہوگا۔اور ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود ہی وہ رسول ہیں جن کی خبر اس آیت میں دی گئی ہے۔بعض لوگ آنحضرت مالی ایم کے اسم ذات احمد ہونے پر یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ وہ رسول يأتي من بعدنی میرے بعد آئے گا۔پس اس پیشگوئی سے کوئی ایسا ہی شخص مراد ہونا چاہئے جو آپ کے بعد سب سے پہلے آئے اور حضرت مسیح کے بعد آنحضرت صلی علیہ سلم ہی آئے تھے نہ کہ حضرت مسیح موعود۔آپ تو آنحضرت صالی السلام کے بعد آئے تھے۔پس آنحضرت صال یا ایہام کے سوا کوئی اور شخص احمد کیونکر ہوسکتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے معترضین بوجہ عربی زبان سے نا واقعی کے اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ بعد کے معنی پیچھے کے ہیں نہ کہ فوراً پیچھے کے۔ایک چیز جو کسی کے پیچھے ہو خواہ دس چیزیں چھوڑ کر ہو یا فوراً پیچھے ہو وہ بعد ہی کہلائے گی۔عربی زبان میں تین ہی لفظ ہیں۔جو وقت کا اظہار کرتے ہیں۔ایک قبل یعنی پہلے ، دوسرا فِي زَمَنِهِ یعنی اس کے وقت میں تیرے بعد یعنی پیچھے۔اور یہی تین الفاظ ہر ایک زبان میں ہیں۔پس دیکھنا چاہئے کہ ان تین لفظوں میں سے کون سا لفظ حضرت مسیح موعود کی نسبت استعمال ہو سکتا ہے آیا قبل کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہو سکتا ہے کیا آپ مسیح سے پہلے آئے تھے اگر نہیں تو پھر کیا ساتھ کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے کیا آپ اس کے زمانہ میں تھے۔اگر یہ بھی نہیں تو وہ کون سا لفظ ہے جو آپ کی نسبت استعمال ہوسکتا ہے کیا وہ صرف بعد کا لفظ نہیں ہے پس