انوار خلافت — Page 148
۱۴۸ بند وبست کرو۔اس پر حضرت علی فوراً پانی کی ایک مشک لے کر گئے لیکن ہر چند انہوں نے کوشش کی۔مفسدوں نے ان کو پانی پہنچانے یا اندر جانے کی اجازت نہ دی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کیا طریق ہے نہ مسلمان کا طریق ہے نہ کفار کا رومی اور ایرانی بھی اپنے دشمن کا کھانا اور پینا بند نہیں کرتے۔تم لوگوں کو خوف خدا بھی اس حرکت سے نہیں روکتا۔انہوں نے کہا کہ خواہ کچھ ہو اس کے پاس ایک قطرہ پانی نہیں پہنچنے دیں گے جس پر حضرت علی نے اپنی پگڑی حضرت عثمان کے گھر میں پھینک دی۔تا ان کو معلوم ہو جائے کہ آپ نے تو بہت کوشش کی لیکن لوگوں نے آپ تک ان کو پہنچنے نہ دیا۔اسی طرح رسول کریم صلی اینم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہ کو جب علم ہوا تو آپ بھی خلیفہ کی مدد کے لئے گھر سے تشریف لائیں لیکن ان بدبختوں نے آپ سے وہ سلوک کیا کہ جو ہمیشہ کے لئے ان کے لئے باعث لعنت رہے گا۔اول تو انہوں نے اس خچر کو بد کا دیا جس پر آپ سوار تھیں۔اور جب آپ نے کہا کہ حضرت عثمان کے پاس بنوامیہ کے یتامی اور بیواؤں کے اموال کے کاغذات ہیں۔ان کی وفات کے ساتھ ہی یتامی اور بیواؤں کے مال ضائع ہو جائیں گے۔اس کے لئے تو مجھے جانے دو کہ کوئی انتظام کروں تو انہوں نے کہا کہ تو جھوٹ بولتی ہے (نعوذ باللہ من ذالک) اور پھر تلوار مار کر آپ کی خچر کا تنگ توڑ دیا اور قریب تھا کہ وہ اس انبوہ میں گر کر شہید ہو جاتیں اور بے پردہ ہوتیں کہ بعض سچے مسلمانوں نے آگے بڑھ کر آپ کو سنبھالا اور حفاظت سے آپ کے گھر پہنچا دیا۔اس خبر کے پہنچتے ہی حضرت عائشہ حج کے لئے چل پڑیں اور جب بعض لوگوں نے آپ کو روکا کہ آپ کے یہاں رہنے سے شاید فساد میں کچھ کمی ہو تو انہوں نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ہر طرح اس فساد کو روکتی۔لیکن کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو آنحضرت سایہ اسلام کی دوسری بیوی ام حبیبہ کے ساتھ ہوا ہے اور اس وقت میرے بچانے والا بھی کوئی نہ ہو۔خدا کی قسم میں اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں نہ ڈالوں گی