انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 193

انوار خلافت — Page 140

۱۴۰ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اس نے رکھ بنائی ہے حالانکہ اس سے پہلے رکھ نہ بنائی جاتی تھی مگر یہ بات بھی غلط ہے حضرت عمرؓ کے وقت سے رکھ کا انتظام ہے۔ہاں جب صدقات کے اونٹ زیادہ ہو گئے تو میں نے رکھ کو اور بڑھا دیا۔اور یہ دستور بھی حضرت عمرؓ کے وقت سے چلا آیا ہے۔باقی میرے اپنے پاس تو صرف دو اونٹ ہیں اور بھیڑ اور بکری بالکل نہیں۔حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا تو میں تمام عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں والا تھا۔لیکن آج میرے پاس نہ بکری ہے نہ اونٹ سوائے ان دو اونٹوں کے کہ یہ بھی صرف حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ بات درست نہیں سب صحابہ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ قرآن کئی صورتوں میں تھا میں نے اسے ایک صورت میں لکھوا دیا ہے۔سنو! قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے آیا ہے اور اس بات میں میں سب صحابہ کی رائے کا تابع ہوں۔میں نے کوئی بات نہیں کی کیا یہ بات درست نہیں۔سب صحابہ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں ان کو قتل کیا جائے۔غرض اسی طرح حضرت عثمان نے ان کے سب اعتراضوں کا جواب دیا اور صحابہؓ نے ان کی تصدیق کی۔اس کے بعد بہت بحث ہوئی۔صحابہ اصرار کرتے تھے کہ ان شریروں کو قتل کیا جائے لیکن حضرت عثمان نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور ان کو معاف کر دیا اور وہ لوگ واپس چلے گئے۔مدینہ سے واپسی پر ان مفسدوں نے سوچا کہ اب دیر کرنی مناسب نہیں۔بات بہت بڑھ چکی ہے اور لوگ جوں جوں اصل واقعات سے آگاہ ہوں گے ہماری جماعت کمزور ہوتی جائے گی۔چنانچہ انہوں نے فوراً خطوط لکھنے شروع کر دیئے کہ اب کے حج کے موسم میں ہمارے سب ہم خیال مل کر مدینہ کی طرف چلیں لیکن ظاہر یہ کریں کہ ہم حج کے لئے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک جماعت مصر سے، ایک کوفہ سے، ایک بصرہ سے ارادہ حج ظاہر کرتی ہوئی مدینہ کی طرف سے ہوتی مکہ کی طرف روانہ ہوئی۔اور تمام لوگ بالکل بے فکر تھے اور کسی کو وہم