انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 193

انوار خلافت — Page 141

۱۴۱ و گمان بھی نہ تھا کہ کیا منصوبہ سوچا گیا ہے۔بلکہ راستہ میں لوگ ان کو حاجی خیال کر کے خوب خاطر و مدارات بھی کرتے۔لیکن بعض لوگوں کے مونہہ سے بعض باتیں نکل جاتی ہیں۔چنانچہ کسی نہ کسی طرح سے ان لوگوں کی نیت ظاہر ہوگئی۔اور اہل مدینہ کو ان کی آمد کا اور نیت کا علم ہو گیا۔اور چاروں طرف قاصد دوڑائے گئے کہ اس نیت سے ایک جماعت مدینہ کی طرف بڑھی چلی آرہی ہے چنانچہ آس پاس جہاں جہاں صحابہ مقیم تھے وہاں سے تیزی کے ساتھ مدینہ میں آگئے۔اور دیگر قابل شمولیت جنگ مسلمان بھی مدینہ میں اکٹھے ہو گئے اور ان مفسدوں کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ایک لشکر جرار مدینہ میں جمع ہو گیا جب یہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچے اور انہیں اس بات کی خبر ہوگئی کہ مسلمان بالکل تیار ہیں اور ان کی شرارت کامیاب نہیں ہو سکتی تو انہوں نے چند آدمی پہلے مدینہ بھیجے کہ امہات المؤمنین اور صحابہ سے مل کر ان کی ہمدردی حاصل کریں چنانچہ مدینہ میں آکر ان لوگوں نے فرداً فرداً امہات المؤمنین سے ملاقات کی لیکن سب نے ان سے بیزاری ظاہر کی۔پھر یہ لوگ تمام صحابہ سے ملے لیکن کسی نے ان کی بات کی طرف توجہ نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ تم لوگ شرارتی ہو۔ہم تمہارے ساتھ نہیں مل سکتے۔اور نہ تم کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں۔اس کے بعد مصری حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔آپ ہماری بیعت قبول کریں اس پر حضرت علی نے ان کو دھتکار دیا اور کہا کہ نیک لوگ جانتے ہیں کہ مردہ اور ذی خشب کے لشکر پر رسول کریم سانی ایم نے لعنت کی ہے۔( یہ وہ مقامات ہیں جہاں مدینہ کے باہر باغیوں کا لشکر اترا تھا ) اسی طرح بصرہ کے لوگ طلحہ کے پاس گئے اور ان سے ان کا سردار بننے کے لئے کہا لیکن انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مروہ اور ذی خشب کے لشکروں پر رسول اللہ سال کی ہم نے لعنت فرمائی ہے میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوسکتا۔اسی طرح کوفہ کے لوگ حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان سے یہی درخواست کی لیکن انہوں نے بھی یہی جواب