اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 52 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 52

52 اور مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ مرزا صاحب کا عشق رسول تو دراصل اتنا بڑھا ہوا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ یہ شرک میں داخل ہو گیا ہے۔(ملاحظہ ہو علم کلام مرزا‘ صفحہ 64 ناشر مکتبہ سعودیہ حدیث منزل کراچی۔ستمبر 1932 ء ) یعنی ایک زمانہ وہ تھا کہ اہلحدیث کے علماء کے چوٹی کے سردار کہتے تھے کہ مرزا صاحب کے الله جو عاشقانہ اشعار ہیں رسول اللہ کے لئے ان کو تو دراصل ہم مشر کا نہ سمجھتے ہیں۔مگر آج کی جو پیداوار اہلحدیث ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ بانی جماعت تو معاذ اللہ گستاخ تھے رسول پاک ﷺ کے ، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کا فتویٰ " فتاویٰ ثنائیہ میں موجود ہے۔یہاں بھی چھپا ہے اور ہندوستان میں بھی اس کے ایڈیشن چھپے ہوئے موجود ہیں۔اس میں یہ سوال ہے کہ مہدی پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ( التوبة:119) سچوں کے ساتھ ہو جاؤ اور مہدی سے بڑھ کر کون سچا ہو گا۔اس لئے امام مہدی کی بیعت کرنا ضروری ہے۔( فتاویٰ ثنائیہ جلد ثانی صفحہ 704-706 ناشر اسلامک پبلشنگ ہاؤس 2 شیش محل روڈلاہور ) پھر کسی نے کہا کہ ان کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے؟ کہنے لگے کہ جہاں تک نماز ہونے کا تعلق ہے۔احمدیوں کے پیچھے نماز جائز ہے البتہ یہ میں چاہتا ہوں ہمارے علماء اہلحدیثوں کے پیچھے ہی نماز پڑھیں۔( اہلحدیث 13 مارچ 1908ء صفحہ 1) اس طرح شریف انسان تھے وہ۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ گستاخ رسول ہیں۔انہوں نے یہ کہا کہ اتنی تعریف کی ہے کہ شرک کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔پھر اس عقیدہ میں شیعہ حضرات بھی تھے محبان اہل بیت۔جن کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت کے بعد بارہ امام ہوئے۔اور امامت کا مقام نبوت سے افضل ہے۔”حیات القلوب‘ پڑھ لیں آپ اور بحار الانوار میں علامہ باقر مجلسی نے کہا ہے و هو الذي ارسل رســـولــــه بـــالهــدى (الصف: 10) یہ آیت کہ آئے رسول امت محمدیہ میں دین کو غالب کرنے کے لئے۔اس سے مراد قائم آل محمد ہیں۔( حیات القلوب جلد دوم صفحه 664 باب چهل و نهم در بیان حجتہ الوداع - مطبع نامی منشی نولکشور لکھنو۔بحارالانوار جلد 35 باب 20 ابواب الآيات النازلة في شانه صفحه 397 ناشر دار الکتب الاسلامیه طہران۔ایڈیشن چہارم 1983 ء ) تو جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہو کہ آنحضرت کے بعد اور نبی ہی نہیں بلکہ امام بھی آ سکتے ہیں جو کہ نبوت سے افضل ہے۔وہ اس قرار داد کے محرکین میں کیسے شامل ہو سکتے تھے۔