اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 53
53 لیکن جو کچھ بھی ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی چوٹی کے اپنے زمانے کے مجدد تھے۔بریلوی، اہلحدیث، جماعت اسلامی غرض کہ شیعہ حضرات کے علاوہ پورا عالم اسلام اس بات پر متفق ہے کہ وہ صاحب کشف تھے، صاحب الہام تھے، مفکر اسلام تھے۔یہ سارے مولوی اگر ان کی جوتیوں کی خاک بھی بن جائیں تو ان کے لئے باعث فخر ہے۔حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہزاروں ہزار کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکتیں ان پر ہوں۔انہوں نے ” موطا امام مالک کی شرح ”مسولی“ میں یہ بات لکھی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے عالم کشف میں محمد عربی کی زیارت کی ہے اور حضور نے یہ فرمایا ہے کہ یاد رکھو شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔(ملاحظہ ہو د خمینی اور اثناء عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ مرتب خلیل الرحمن سجاد ندوی صفحه 13, 80 -’در الثمين فــي مبشرات النبى الامين ، صفحہ 32 تصنیف حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مترجم مولانا غلام رسول صاحب نا شرسنی دارالاشاعت علویہ رضویہ ڈجکوٹ روڈ فیصل آباد ) جماعت احمدیہ کا پیش ہونے والا وفد حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا یہ قرارداد تو پیش ہو گئی۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کا وفد حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی قیادت میں اسمبلی میں پیش ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ بھی اس میں شامل تھے تو اس وفد میں کل کتنے افراد تھے اور کون کون تھے۔؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ وفد پانچ ممبروں پر مشتمل تھا۔سیدنا و امامنا و مرشدنا خلیفہ امسح حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے آکسن (Oxon یعنی آکسفورڈ کا پڑھا ہوا) امام جماعت احمد یہ عالمگیر۔دوسرے میرے محبوب آقا سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ جنہیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے بعد عرش کے خدا نے خلافت کا تاج پہنایا، اللہ کی ہزاروں رحمتیں اور برکتیں ان پر ہوں۔تیسرے میرے شفیق اور محترم استاد جن کا میں ادنیٰ ترین چاکر ہوں ، خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مبشر بلاد اسلامیہ، پرنسپل جامعہ احمدیہ، مدیر ماہنامہ الفرقان، ایڈیشنل ناظر تعلیم القرآن۔چوتھے حضرت مہدی دوراں کے