اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 504
504 اب آپ دیکھیں کہ کتنا بڑا فراڈ ہے۔اسلم قریشی کو ضیاء نے اور مولویوں نے خود بھجوایا صرف اس لئے تا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع پر مقدمہ دائر کیا جا سکے کہ آپ معاذ اللہ اس کے قاتل ہیں۔چنیوٹ کے اس خبیث الفطرت ملاں نے یہاں تک کہا کہ اگر گورنمنٹ اجازت دے تو میں مرزا طاہر احمد صاحب کے مکان سے، ان کے بستر کے پاس اسلم قریشی کو برآمد سکتا ہوں اور پھر کہا کہ یہ مار دیا گیا ہے اور ملاؤں نے اس کا جنازہ پڑھا۔حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اسلم قریشی کو ہم نے خود بھیجا ہے۔اتنا بڑا فراڈ میں سمجھتا ہوں مذہبی دنیا میں کبھی نہیں کھیلا گیا۔مولا نا فضل الرحمن صاحب نے تو یہ کہا تھا اپنی ایک مجلس میں کہ پاکستان فراڈ اعظم ہے۔لیکن میں کہتا ہوں یہ تو بے بنیاد چیز ہے۔یہ تو حقیقت ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ مکہ اور مدینہ جس طرح کامیاب ہوئے اللہ تعالیٰ بالآخر پاکستان کو بھی اسلامستان بنائے گا اور یہ دنیا کی قوموں کی صف اول میں آئے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو یہاں پناہ دی ہے اور انہی کی کوشش سے یہ عظیم الشان مملکت معرض وجود میں آئی ہے اور اب تک جو بچی ہوئی ہے، وہ ان دعاؤں ہی کا نتیجہ ہے جو حضرت مصلح موعود نے ، حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ، حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے اور موجودہ حضور کر رہے ہیں۔تو یہ سب سے بڑا فراڈ ہے جو ملاں نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع پر قتل کا مقدمہ کرنے کے لئے اسلم قریشی کی شکل میں بنایا تھا۔اس نے اس کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ غنڈہ گردی ہے اس لئے اب وقت آ رہا ہے کہ اس کے جواب میں اب مرزائیت کو 1989 ء سے پہلے پہلے ختم کر دیں گے۔یہ اعلان تھا کہ اب ساری طاقتیں مجتمع ہو رہی ہیں اور ممکن نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ اب استعماری طاقتوں کا مقابلہ کر سکے۔یقینا اس کو ختم کر دیا جائے گا۔یہ بالکل فراڈ اعظم ہے۔جب میں نے یہ خبر پڑھی تو بس ادھر میں نے خبر پڑھی اور اُدھر مجھے حضرت گیانی واحد حسین صاحب کا ایک لیکچر یاد آگیا۔غالبا یہ لیہ کی بات ہے۔حضرت ملک عمر علی صاحب امیر جماعت احمدیہ ملتان صدارت کر رہے تھے اور گیانی واحد حسین صاحب نے احرار کے متعلق تقریر کی۔میری تقریر کا عنوان تھا اتحاد المسلمین۔ان کی تقریر احرار کے متعلق تھی۔ان دنوں میں احرار کی بڑی شورش تھی۔تو انہوں نے احراریوں کے جھوٹ اور ان کی فریب کاریوں کا نقشہ کھینچنے کے بعد یہ پڑھا۔پنجابی کے شعر تھے:۔