اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 503
503 چنیوٹی ملاں کی پیشگوئی کا انجام حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا چنیوٹ کے ایک بدنام زمانہ ملاں نے 1989ء سے قبل ایک پیشگوئی کی اور یقینی طور پر شیطانی القاہی ہے۔اس نے کہا کہ جماعت احمد یہ 1989ء سے قبل ہی مکمل طور پر مٹ جائے گی۔اس کا یہ قول اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ استعماری طاقتوں کے بل بوتے پر یہ لوگ اپنے دعوے کرتے ہیں۔اس بارہ میں کچھ فرمایئے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ آپ نے بالکل سچ فرمایا۔یہ الفاظ روز نامہ جنگ“ لاہور کی اشاعت 30 جولائی 1986ء میں شائع ہوئے جبکہ ضیاء الحق زندہ تھا۔اور ضیاء ہی وہ شخص تھا جس نے 1985ء میں ویمبلے کا نفرنس لندن میں خاص طور پر پیغام دیا تھا کہ قادیانیت کینسر ہے اور ہم اس کو ختم کر کے چھوڑیں گے۔( جنگ 11 ستمبر 1985ء) تو استعماری طاقتوں کی آواز ہی تھی جس کے ترجمان اس دور کے فرعون بنے ہوئے تھے اور انہیں کے گماشتوں میں اور خود کاشتوں میں یہ ملاں بھی تھے۔اس ملاں کا نام لینا دراصل اس مجلس کو نا پاک کرنے کے مترادف ہے۔اس لئے نام کے بغیر میں الفاظ اس شخص کے پڑھتا ہوں۔ویسے اتنا بتا دیتا ہوں کہ پہلاں وہ ہے جس کا ہم نام ڈیرہ غازی خان میں بھی موجود ہے۔اسی دیوبندی مسلک کا آدمی ہے اور اسے حکومت کی طرف سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔تو ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں خواہ وہ چنیوٹ کا کوئی ملاں ہو یا ڈیرہ غازی خان کا ہو۔اس شخص نے یہ کہا کہ 1989 ء تک پوری دنیا سے قادیانیت کا جنازہ نکل جائے گا۔“ بات واضح ہے۔یہ الفاظ ہیں 1989 ء تک پوری دنیا سے قادیانیت کا جنازہ نکل جائے گا۔“ اسے الہام ہوا ؟ کشف ہوا؟ صاف بات ہے کہ یہ لوگ تو اب خدا کو مردہ سمجھتے ہیں۔الہام اور وحی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ دراصل استعماری طاقتوں کی سازش کا اعلان تھا کہ اب انہوں نے 1989 ء تک صفحہ ہستی سے مٹادینا ہے ” قادیانیت کو۔آگے یہ لکھا کہ مولانا اسلم قریشی اور سکھر کے شہداء کا قتل قادیانیت کی غنڈہ گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔“