اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 452
452 غالبا مکہ میں لکھے ہیں۔یہ ہم عصر تھے مسیح موعود علیہ السلام کے اور یہ تحریر بالکل حضرت مسیح موعود کے دعوی کے ابتدائی ایام کی ہے، یا چند دن اس سے پہلے ہو کیونکہ معین اس میں تاریخ نہیں ، ایام وہی تھے۔وہ فرماتے ہیں کہ ظہور امام مہدی آخر الزمان کے ہم سب لوگ شائق ہیں۔مگر وہ زمانہ امتحان کا ہے۔اول اول ان کی بیعت اہل باطن اور ابدال شام بقدر تین سو تیرہ اشخاص کے کریں گے اور اکثر لوگ منکر ہو جائیں گے۔اللہ سے ہر وقت یہ دعا مانگنا چاہیے کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (شمائم امدادیہ حصہ سوم صفحہ 102 نا شرکتب خانہ شرف الرشید شاہ کوٹ۔شیخو پورہ) یہ وہی دعا ہے جو ہمارے آقا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جو بلی کی دعائیہ پروگرام میں شامل فرمائی ہے اور پھر اس کو کثرت سے پڑھنے کا ارشادفرمایا ہے۔کہتے ہیں مولا نا امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کہ مسیح موعود جب آئے گا تو ساری دنیا میں صرف تین سو تیرہ لوگ مانیں گے۔چنانچہ امت مسلمہ کی تاریخ میں اگر چہ بہت سے مدعیان مہدی گذرے۔جس طرح چاند سورج کا گرہن مسیح موعود کے ذریعہ سے ظاہر ہوا۔یہ تین سو تیرہ کی فہرست سوائے مسیح موعود کے کسی نے شائع نہیں کی۔تو یہ ایک زبر دست نشان ہے مسیح موعود کی صداقت کا۔اسی سلسلہ میں ضمناً یہ حوالہ بیان کر کے میں یہ جواب ختم کروں گا۔بالکل اسی طرح اہل بیت کی طرف سے بھی پیشگوئیاں صدیوں سے چلی آرہی ہیں اور شیعہ کتب میں موجود ہیں اور انہی کی روشنی میں پچھلی صدی میں ایک شیعہ عالم مولانا سیدمحمد سبطین سرسوی نے ایک کتاب لکھی ہے۔”الصراط السوی في احوال المهدی یہ امامیہ کتب خانہ لاہور نے شائع کی۔یہ موچی دروازہ کے اندر ایک کتب خانہ ہے۔میں اور مولا نا ریاض محمود باجوہ صاحب یہ کتاب لینے کے لئے ان کے پاس گئے تھے۔اس میں صفحہ پانچ سوسات پر لکھا ہے کہ دراصل بات یہ ہے کہ یہ نہ سمجھیں کہ جب امام غائب آجائے گا تو فوراً دنیا اس کو تسلیم کر لے گی۔دیکھیں نا یہ تو تاریخ عالم کا کھلا ورق ہے۔دنیا میں کوئی ایک نبی ایسا نہیں آیا جس کا استقبال پھولوں سے کیا گیا ہو۔حلوے کی دیگیں چڑھائی گئی ہوں۔شربت تقسیم کئے گئے