اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 451
451 نبياً مـا مـات اگر نبی ہوتے آپ تو کبھی وفات نہ پاتے۔وقــالــت فرقة : انقضت النبوة بموته فلا نطيع احداً بعدۀ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد غیر مشروط طور پر ہر قسم کی نبوت ختم ہوگئی ہے۔فلا نطيع 66 احداً بعدۂ اس کے بعد ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے۔“ مختصر سیرت الرسول“ از حضرت شیخ محمد بن عبد الوہاب صفحہ 197-198 ناشر دارالکتاب العربی ) جب وہ پڑھ چکے۔میں نے کہا۔سیدى و حبيبى ما الفرق بين هذاه العقيدة الفاسدة التي جحدها ابو بكر الصديق و خالد بن ولید وغير ذلك من الصحابة الكرام خلاف هذه العقيدة۔وما الفرق بين هذا العقيدة وما الفرق فى قرار داد باكستان۔میں نے ان سے یہ کہا کہ اب آپ مجھے یہ فرما ئیں کہ ان مرتدوں کے عقیدہ میں جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق کی سرکردگی میں حضرت خالد بن ولید اور تمام مسلمان کمانڈروں نے جہاد کیا تھا۔ان کے عقیدہ میں اور بھٹو حکومت کے 7 ستمبر کی قرارداد میں کیا فرق ہے؟ اس پر وہ رو کے کہنے لگا:۔انما الفرق هذا بان هذا العقيدة في اللسان العربی و قرار داد في لسان الارديه او الانكليزيه فرق ایک ہی ہے۔عقیدہ وہی ہے جو ان مرتدوں کا تھا۔فرق اتنا ہے کہ انہوں نے عربی زبان میں اپنا عقیدہ بیان کیا اور بھٹو حکومت اور مولویوں نے اس کو اردو یا انگریزی میں ڈھال دیا۔اب اسی سلسلہ میں دوسری اور آخری بات یہ کہتا ہوں۔میں نے کہا ہے نا کہ یہ احمدیت کی سچائی کی دلیل ہے۔میرے پاس ایک بہت بڑے دیو بندی عالم جن کو ”قطب عالم حضرت مولانا شاہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اکثر جو چوٹی کے علماء ہیں ان میں حضرت مولا نا محمد قاسم نانوتوی اور شاہ حاجی امداداللہ صاحب سر فہرست ہیں۔یہ ان کا ایک مکتوب ہے اور جو بعد میں شمائم امدادیہ میں چھپا جسے مضمون کہنا چاہئے۔بعد میں ان کے دوسرے بعض ملفوظات اور تصوف سے متعلق مضامین کا مجموعہ شمائم امدادیہ کے نام سے شائع کیا گیا۔انہوں نے یہ مضامین