اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 227
227 مجھ سے ایک دفعہ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔میں نے کہا میں ایک موٹی سی بات آپ سے کہتا ہوں۔ہم تو آنحضرت ﷺ کے غلام ہیں، ہماری فقہ رسول اللہ کی فقہ ہے، ملاؤں کی بنائی ہوئی فقہ نہیں ہے۔جس میں یہاں تک لکھا ہے اور دیو بندی اس کو مانتے ہیں ، بریلوی بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں رد المحتار ، ابن عابدین کی کتاب ہے اور فقہ میں اس کو ایک اتھارٹی سمجھا جاتا ہے۔نورانی صاحب اور اسی طرح دوسرے جمیعت علماء اسلام نے 1974 ء سے پہلے اور بعد میں جب نظام مصطفیٰ کا نعرہ بلند کیا بھٹو کو الگ کرنے کے لئے ، تو اس نعرے میں یہ کہا تھا کہ اگر ہمیں اقتدار دے دیا جائے تو ہم چوبیس گھنٹے میں اسلام نافذ کر سکتے ہیں۔اس کے یہی معنی تھے کہ رد المحتار یا ”فتاوی عالمگیری، ہم آرڈینینس کے ذریعہ جاری کر دیں گے کہ آئندہ جس قدر بھی فیصلہ ہوں گے اس کے مطابق ہوں گے۔تو ایک منٹ میں نظام اسلامی قائم ہو جائے گا تو یہ فلسفہ تھا اس کے پیچھے۔اب رد المحتار میں یہ لکھا ہے اور دیوبندیوں کے مجد داشرف علی تھانوی صاحب نے بھی اپنے فتاویٰ میں اس کو بطور نظیر کے پیش کیا ہے کہ لا رعف فكتب الفاتحة۔سوال یہ تھا کہ آیا معاذ اللہ ! معاذ اللہ! یہ خباثت نفس دیکھیں آپ! اس کے پیچھے کیا کارفرما ہے پوپ نے جو کچھ کہا اس کی کچھ حیثیت ہی نہیں اس فتویٰ کے مقابل پر جو دیو بندی اور بریلوی دونوں مانتے ہیں۔فتویٰ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی نکسیر پھوٹے اور وہ ہومیو پیتھی یا ایلو پیتھی یا یونانی جوطریق ہائے علاج رائج ہیں، لا رعف فكتب الفاتحة اگر نکسیر کے علاج کے لئے اگر وہ کوئی ظاہری علاج کی بجائے خون کے ساتھ سورۃ فاتحہ اپنی پیشانی پر لگا دے تو وہ بھی جائز ہے۔وبالبول ايضاً اوراگر سورۃ فاتحہ کومعاذ اللہ ، معاذ اللہ پیشاب سے لکھ کر لگا دے اپنی پیشانی پر تو علاج ہو جائے گا اور نکسیر ختم ہو جائے گی۔(ردالکتار علی در المختار جلد 1 صفحہ 154 طبع اول 1399ھ ) یہ جو ختم نبوت کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔یہ دیو بندی امت کا عقیدہ ہے اور تمام اہل سنت قرار دینے والے اپنے تئیں، یہ ان کا عقیدہ ہے۔تو ان لوگوں کی نگاہ میں تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔جو قرآن کو یہ حیثیت دینے والے ہیں۔ان کو اسلام اور رسول اللہ اللہ کی کیا پرواہ ہے۔تو میں یہ بتا رہا تھا کہ ہماری فقہ یہ فقہ نہیں ہو سکتی۔جس طرح کہ شاعر مشرق ڈاکٹر سرا قبال نے بھی فرمایا ہے۔