اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 62 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 62

62 سے خارج قرار دینا ہے۔مگر میرے خدا نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ ملاں کو اس بات کی پروا نہیں ہے پاکستان یا یہ لوگ جتنے پیپلز پارٹی کے کمیونسٹ ہیں وہ اسلام کے دشمن ہو جا ئیں، انہیں ہر قیمت پر جماعت احمدیہ کو زک پہنچانا مقصود ہے۔تمہیں اس لئے اجازت دی گئی ہے تا کہ اس رنگ میں جواب دیا جائے کہ جو اسلام سے دور جا رہے ہیں وہ اسلام کے قریب آجائیں اور ایسا اثر ہو کہ اسلام کا جوسچا علمبر دار ہے اس نے اسلام کی عظمت اور شوکت کو یہاں قائم کرنا ہے۔تاکہ ملاں کی اس روش کی وجہ سے جو خدا کے اور مصطفی عملے کے منکر ہور ہے ہیں وہ نظر ثانی کر سکیں ، یہ فلسفہ تھا دراصل۔آخری دن نشستوں کی ترتیب میں تبدیلی ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : - آخری دن میں وفد کی نشستوں کی ترتیب کے بارے میں آپ وضاحت فرما رہے تھے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ہم شامل نہیں تھے۔جب یہ صورت ہوئی تو چیئر مین نے کہا کہ بجائے اس کے کہ یحییٰ بختیار کو آخری دن بطور اٹارنی جنرل کے پیش کیا جائے۔حالانکہ یہ بالکل قانون کے خلاف تھا اور حکومتی نشریہ کے خلاف تھا۔اعلان کے خلاف تھا لیکن ملاؤں کے زور دینے کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ اچھا پھر سوال کرنے کے لئے کسی مولوی کو پیش کیا جائے اور اٹارنی جنرل صرف بیٹھنے والوں میں شامل ہوں۔یہ فیصلہ ہوا تا کہ وہ داغ جوملاں کو لگ چکا تھا اور جو فتح و ظفر کا پرچم خلیفتہ امسح الثالث کی زبان مبارک کے ذریعہ سے لہرایا جا چکا تھا اور ہر ممبر اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا حقیقت کے لحاظ سے، یہ الگ بات ہے کہ وہ مجبور تھا فیصلہ دینے کے لحاظ سے اور پابند تھا۔ہمیں پتا نہیں تھا ہم کمیٹی روم نمبر 2 میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آخری جو اجلاس تھا ایک دن سے پہلے کا، اس میں جب بلایا گیا تو یحییٰ بختیار صاحب کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ اب تک تو اٹارنی جنرل کی حیثیت سے میں آپ کی خدمت میں سوالات پیش کرتا رہا ہوں۔میں عربی دان نہیں ہوں انگریزی بول سکتا ہوں۔حقیقت یہی تھی کہ شروع میں سوال و جواب کا سلسلہ انہوں نے انگریزی میں ہی شروع کیا تھا۔وہ سمجھتے ہوں گے کہ ان کو انگریزی کہاں آتی ہوگی۔ٹوٹی پھوٹی بولیں گے اس طرح بھی مذاق اڑایا جائے گا۔بہر حال یہ بھی ایک تماشا بنانے