اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 61
61 عبارتیں وغیرہ نہیں تھیں۔یہ جس طرح سازشیں کی گئی تھیں ان سازشوں کا یہ بھی حصہ تھا اور یہ دراصل ملاؤں کو سمجھیں کہ قیامت آگئی تھی اور خلجان تھا کہ بیٹی صاحب نے کسی سوال کے اوپر ایسی جرح نہیں کی کہ جس سے ان کو ساکت کیا جا سکے۔بلکہ کھلم کھلا احمدیت کی تبلیغ ہوئی ہے اور ہمارے لئے تو کوئی منہ دکھانے کی گنجائش نہیں رکھی۔بہت طنز آمیز طور پر اور بڑے جوش کے ساتھ یہ بتایا گیا اس وقت چیئر مین صاحب کو کہ ہمارے کیس کو تو بالکل ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا اور حکومت کا جو انتظام تھا کہ سارے لوگ سوالات اٹارنی جنرل کو دے دیں اور وہ پیش کریں۔طریقہ کار یہی ہوتا تھا۔یہ جو بعد میں لکھا گیا ہے کہ جی تین سوسوال حضرت مفتی صاحب نے کئے۔چارسوسوال نورانی صاحب نے کئے۔اتنے ہزار ہم نے کئے۔سوالات حضرت صاحب سے کسی نے بھی نہیں کئے۔براہ راست کر ہی نہیں سکتے تھے۔قانون کے خلاف تھا اور یہ قانون چھپا ہوا موجود ہے اس زمانے میں ، اور نشر کیا گیا تھا کہ سوال کرنے والے صرف بیٹی بختیار ہوں گے جو کہ اٹارنی جنرل ہیں۔سوائے ایک دن کے ، جب از خود کھڑے ہو گئے مفتی محمود صاحب ذرية البـغـايـا کے لفظ پر ورنہ ان کو بھی اجازت نہیں تھی۔سارے سوالات یہ مولوی حضرات جو تھے (1) حمدیہ پاکٹ بک اور (2) ” قادیانی مذہب یہ الیاس برنی صاحب کی کتاب ہے اور (3) تیسرے قادیانی مسئلہ جو کہ مودودی صاحب کی کتاب ہے اور جو سا را چربہ ہے اور خلاصہ کیا گیا ہے ” قادیانی مذہب کا۔تو ان میں سے چند اعتراض نوٹ کرتے اور وہ اٹارنی جنرل کو دے دیتے ، اب اٹارنی جنرل تو ان کا غلام نہیں تھا۔وہ تو گورنمنٹ کی جو پالیسی تھی اس کے مطابق چند سوال لے لیتا اور باقی سوال جو تھے وہ خود گورنمنٹ کے تجویز کردہ ہوتے تھے اور چند سوال ہی پیش ہوئے تھے، چونکہ جو پالیسی تھی یہ ثابت کرنے کی کہ قادیانی الگ ہیں اور اسی کے اردگرد یہ انہوں نے چکر لگایا (جیسا کہ اب میں آئندہ آپ کو بتاؤں گا) کہ آپ کا دین اور ہے، آپ نے ہمارے نبیوں کی توہین کی ہے، آپ کا خدا اور ہے، آپ کا رسول اور ہے، آپ کی امت اور ہے۔تو یہ پالیسی تھی ، ایک پیٹرن تھا جس پر بیٹی بختیار چل رہے تھے تو ملاؤں کا دل رکھنے کے لئے فیصلے پہلے ہو چکے تھے۔مور نے پہلے دن ہمیں یہ بتا دیا تھا کہ فیصلے ہو چکے ہیں کہ ہمیں انہوں نے دائرہ اسلام