اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 60 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 60

60 نورانی صاحب اور پروفیسر غفور صاحب، یہ حضرات تھے اور بالکل درمیان میں پیپلز پارٹی کی کرسی جہاں سے شروع ہوتی تھی اس کے اٹارنی جنرل تھے بیٹی بختیار صاحب۔تو یہ ترتیب تھی۔ڈائس میں چیئر مین کے سامنے کرسیاں جو تھیں وہ ایک طرف پیپلز پارٹی کے معززممبروں کی تھیں اور دوسری طرف معزز ارکان اپوزیشن کے لئے کرسیاں تھیں اور ان کے درمیان بہت ہی نفاست اور اہتمام کے ساتھ ایک بڑی میز لگائی گئی تھی وفد کے لئے۔جس کے درمیان میں سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثالث اپنی نورانی شکل کے ساتھ جلوہ گر ہوتے تھے۔بڑا ہی پر کیف نظارہ تھا۔یہ بات تو میں بعد میں بھی بتاؤں گا۔مگر یہاں میں ضرور ذ کر کرتا ہوں کہ پہلے دن جب حضور تشریف لے گئے تو برادرم محمد شفیق قیصر صاحب مرحوم جو کہ اس وقت مجلس خدام الاحمدیہ کے نائب صدر تھے، پارلیمنٹ لاجز گئے کہ تاثرات معلوم کریں۔یہ محضر نامہ کا پہلا دن تھا۔22 جولائی کی تاریخ تھی۔غالباً سوات یا ( قبائلی ) Trible Area کے کوئی ممبر تھے پیپلز پارٹی کے ، ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ آج امام جماعت احمدیہ کا بھی اسمبلی میں کوئی بیان ہوا ہے۔تو وہ پیپلز پارٹی کے ممبر کہنے لگے کہ میں تو خدا کا بھی منکر ہوں۔پتہ نہیں کیا ختم نبوت کا چکر ان لوگوں نے چلا دیا ہے۔مگر آج مجھے امام جماعت احمدیہ کو دیکھ کر یہ یقین ہو گیا ہے کہ کوئی ہستی ضرور ہے جس نے ایسا نورانی چہرہ پیدا کیا ہے۔تو حضور درمیان میں ہوتے تھے۔حضور کے بالکل ساتھ حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کتاب رپورٹ تحقیقاتی عدالت 1953ء کے ساتھ اور پھر ان کے ساتھ اگلی نشست پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الرابع ) اور حضور کے بالکل ساتھ بائیں طرف حضور کا یہ کفش بردار اور نالائق خادم اور ٹرنک سامنے رکھے ہوتے تھے اور میرے ساتھ میرے پیارے استاد خالد احمدیت“ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نور اللہ مرقدہ، لیکن یہ ترتیب آخری دن بدل گئی تھی۔وہ ترتیب اس لئے بدلنی پڑی کہ آخری دن سے ایک دن پہلے ایک سازش کی گئی۔خصوصی کمیٹی میں یہ معاملہ پیش ہوا۔ہمیں تو کچھ پتا نہیں تھا تو جس وقت وفد وہاں پر پہنچا تو چیئر مین فرمانے لگے کہ ہمارے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا ہے کہ اب تک جو سوالات تھے وہ تو میں صحیح معنوں میں پیش کر سکتا تھا اب عربی کی عبارتیں ہیں۔حالانکہ بالکل فراڈ تھا کوئی عربی کی