اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 51 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 51

51 مسئلہ کوحل کیا۔مولاناعبدالحی صاحب نے اپنے طور پر اس مسلہ کو پیش کیا۔چنانچہ ” تحذیر الناس‘ میں ان کا فتویٰ بھی موجود ہے اور وہ عبارت خود مولانا عبدالحی صاحب کی ہے۔لیکن اس کے علاوہ مجموعہ فتاوی مولانا محم عبد الحی فرنگی محلی لکھنوی میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک شخص نے ان کی خدمت میں یہ استفسار کیا کہ مولانا ایک پٹھان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خواب میں مجھے محمد عربی کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور نے مجھے فرمایا کہ خدا نے تمہیں نبی بنایا ہے۔تم جاؤ اور ایک پریس لگاؤ اور پریس لگا کر دنیا میں دین محمد کی اشاعت کرو۔تو اس خواب کے متعلق آپ کا فتویٰ کیا ہے۔اب حضرت مولانا عبد الحئی صاحب نے یہ نہیں جواب دیا کہ یہ شیطانی خواب ہے کیونکہ اب تو کسی قسم کا نبی آہی نہیں سکتا۔فرمانے لگے کہ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ یہ رحمانی خواب ہے ہمیں اس شخص کے حالات اور اس خواب کے اندرونی معاملات کو دیکھنا چاہئے۔اگر یہ خواب رحمانی ہے تو اس کے مطابق اس شخص کے ساتھ معاملہ کیا جانا چاہئے۔یہ فتویٰ کا جواب تھا۔(ملاحظہ ہو مجموعہ فتاویٰ مولانا محمد عبد الحئی فرنگی محلی لکھنوی جلد سوم صفحہ 252 ناشر ایچ۔ایم سعید کمپنی پاکستان چوک کراچی ) مگر یہ نورانی صاحب بھی جو بریلوی مسلک کے تھے۔ان حضرات میں بھی شامل ہو گئے۔حالانکہ اہلسنت والجماعت کا عقیدہ یہ تھا۔پھر اس میں اہلحدیث بھی تھے۔حالانکہ ساری عمر وہ رسول اللہ علیہ کی حدیث پڑھتے رہے کہ آنے والا مسیح موعود اِمَامُكُمُ مِنكُم ہوگا۔( صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم علیھما السلام ) اس کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ نہیں، دودفعہ نہیں ، تین دفعہ نہیں ، چار دفعہ نبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے۔یہ مولا نا تو جتنے بھی 1974ء میں تھے اور اب تو قصہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ان میں سے کوئی بھی مولانا ثناءاللہ صاحب کی طرح حضرت مسیح موعود کا ہمعصر نہیں تھا۔مولا نا ثناء اللہ امرتسری پیدل چل کر بٹالہ سے قادیان حضرت مسیح موعود کی زیارت کے لئے گئے تھے۔اس شان کے انسان تھے وہ۔اختلاف الگ چیز ہے۔انہوں نے دیانت داری اور شرافت سے اختلاف کیا۔مناظرے بھی کئے۔لیکن آپ حیران ہوں گے کہ مولانا نے ثنائی پاکٹ بک لکھی ہے۔اس میں جماعت احمدیہ سے متعلق لکھا ہے کہ:۔یہ فرقہ اسلامی فرقوں میں سب سے اخیر ہے۔“ (صفحه 56 ناشر مکتبہ عزیز یہ رام گلی نمبر 4 چوک دالگراں لاہور )