اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 49 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 49

49 امتوں کے باپ ہوتے ہیں۔وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ جس طرح آدم اپنی امت کے باپ تھے، جس طرح حضرت ابراہیم اپنی امت کے باپ تھے ، جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی امت کے باپ تھے۔حضرت محمد رسول اللہ بھی اپنی امت کے باپ ہیں اور ہر امتی جو تا قیامت آئے گا وہ حضرت محمد رسول اللہ کی اولاد میں شمار ہو گا۔لیکن اگر اتنا ہی ہوتا تو پھر زیادہ سے زیادہ دنیا پر یہ بات بے نقاب ہوتی کہ رسالت کا جو مقام باقی نبیوں کا ہے وہی مقام محمد بیت ہے۔خدا نے اس کا رد کرنے کے لئے خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا ہے۔حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی فرماتے ہیں کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ باقی نبی امت کے باپ تھے اور محمد مصطفی مے نبیوں کے بھی باپ ہیں۔یہ معنی ہیں خاتم النبین کے اور آخر میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی نبی آنحضرت کے بعد پیدا بھی ہو جائے تو ختم نبوت میں کچھ فرق نہیں آئے گا اور پھر لکھتے ہیں کہ علماء اہلسنت بھی اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت قطعی بند نہیں ہے۔اب صرف ایسا نبی نہیں آ سکتا جو آنحضرت ﷺ کی امت میں سے نہ ہو۔اب وہ آئے گا جو محمد کا غلام ہو گا۔وہ آئے گا جو کہ کلمہ محمد پڑھانے والا ہوگا۔وہ آئے گا جو دین محمد کو قائم کرنے والا ہوگا۔خاک پائے مصطفیٰ بہتر ہے ہر اکسیر سے سینکڑوں عیسی بنے اس خاک کی تاثیر سے عیسی کے معجزوں نے مردے جلا دیئے محمد کے معجزوں نے عیسی بنا دیئے یہ محمد کی شان ہے ختم نبوت میں۔مگر مولانا مفتی محمود صاحب نے یہ پیش کیا۔میں یہ بتا رہا تھا آپ کو اور اس سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ دیو بندی حضرات سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو رحمت للعالمین ، سمجھتے ہیں۔مولوی محمد موسیٰ صاحب مدرس مدرسہ قاسم العلوم ملتان نے مرثیہ کہا۔عربی زبان میں وہ مرثیہ کہا گیا اور پہلے صفحہ پر مفتی محمود صاحب کے آرگن ” تر جمان اسلام ( مؤرخہ 15 ستمبر 1961 ء) نے اس کو شائع کیا۔اور اس میں لکھا ہے۔۔