اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 599 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 599

599 دین کے ہر محاذ پر کام کرنیکی ضرورت کا جامع الناس STATETETETERS خ الحديث ك قادیانیت کی تردید شائع کردی ع الله تر بامحمد کریا کی جامع شخصیت بینی کاموں اداره مرکز ندید شمع فروزاں تھی۔دعوت و ارشاد ولایت فقیر امین چنیوٹ (پاکستان) رہے تھے اور عجیب جوش میں تھے۔در دارہ سے نکلتے ہوئے ہم خدام کی طرف دیکھ کر بہت زوردی علاوہ ازیں دوسرے ہر قسم کے دینی کاموں کو حضرت ہمیشہ میرا ہے میں فرمایا : رہتے۔رو فرق باطلہ میں اپنے مشاغل علمیہ وغیرہ کے لحاظ سے حتی الوسع بھر پور حصہ لیا۔قادیانیت جیسے خطر ناک فتنہ کے رد میں اس فتنہ کے ابتداء میں سہو کچھ کیا ہو گا وہ ہمارے سامنے نہیں ، مگر اس شعبہ کے خصوصی لبس لکھ دوں کے مروا دیتے ہیں نکہ اسی دفعہ انشاء اللہ مسایل کی والیتا ہے کو اسے بار بار تجیب جوش میں نہاتے رہے اور متقی بھی رہی ہے کہ اکابر کے ساتھ حضرت کے خصوصی تعلقات خصوصا اکابر علما ء جماعت۔ختم نبوت جیسے اہم و بنیاد می مسئلہ کے حل کے لیے اگر لاکھ دوں کو فرزندان احرار اسلام ان کے سر پرست حضرت اقدس رائے پوری اور حضرت علامہ اسلام و عاشقان رسول خیر الانام قربان ہو جاتے تو سودا مہنگا نہیں تھا۔مگر سید انور شاہ صاحب کشمیری نیرامیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ سنت اللہ یہی ہے کہ جب کوئی مالک کی رضا کے لیے دین کی سربلندی کا حب بخاری اور رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لما له مالون کے لیے اخلاص کے ساتھ مرنے مردانے پر آجاتا ہے تو قادر کریم نخود اس وغیرہ کی بناء پر یقینا عملا اور مشوروں میں وافر حصہ لیا ہو گا گمراہی اخیر ورود کی حفاظت فرماتا ہے اور پھر پوری تحریک کے دوران تحریک کے ارکان نہیں جو اس سیاہ کار کے سامنے۔ہے، پاکستان میں اس فتنہ کے سراٹھانے کا اور اس کے حالات کے بارے میں برابر معلومات رکھتے اور دعاء و توجہ من کے رسالہ ز عشرہ کاملہ کا بہت اہتمام سے کچھ وانا جور کا دریا نیت میں بہت اہتمام سے فرماتے۔نیز حضرت کے خلیفہ خاص حضرت مولانا مفتی معرکہ اللہ رسالہ ہے۔جب تحریک ختم نبوت بھٹو کے دور میں چلی امین العابدین صاحب بذات خود بہت اہتمام سے اس تحریک میں شریک تو اس کے قائد معشرت، مولانا محمد یوسف اسلامی جمہوری قدس سرہ تحریک ہوئے۔اور نہایت اندر برد حکمت سے اس کی قیادت میں حصہ لیا۔وفات شروع ہونے سے چند روز قبل مدینہ منورہ تشریف لائے۔سے کچھ روز قبل جب مجلس تحفظ ختم نبوت کے بارے میں پتہ چلا کہ ان کو ان کی مدینہ منورہ سے کراچی کے لیے روانگی کا منظر بھی آنکھوں ایک ہفت روزه بنام رختم نبوت ) کی اشاعت کی اجازت ہوتی ہے تو بہت کے سامنے ہے کہ حضرت شیخ قدس سرہ کے ساتھ طویل تخلیہ کے بعد مسرت کا اظہار فرمایا اور اس رسالہ کے لیے اپنی طرف سے نقد چندہ بھی جب حضرت کے حجرہ سے نکلے ہیں تو حضرت بنوری کا چہرہ الگ کے بھجوایا اور ایک گرامی نامہ بھی اس موقعہ پر با وجود اپنی انتہائی علالت کے انکاروں کی طرح سرخ اور ہا تھا اور جذبات سے آنکھوں میں آنسو جھیلک ارسال فرمایا۔جسے تیر کا رسالہ کے مدیر نے اس کے پہلے شمارے میں شائع