اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 598
598 خطاب المرید کو کیا ہوا ہو جائے گا۔اور بھٹو کی تقریر کیا وہ ایسے تخت پر ہوا بھی تھے پر میں نے آج تمہارے پا سی طاقت نہیں، ہمارے خلاف اشتہارات سے وہ تقریر این قاریہ دور میں ان کی قدر کرنی چاہیے ایران کون ہے یہ کسی سے تختہ میں بھر سکتی ہے امل العلم میں کرے یا ہار ہے مہارت اور کچھ بڑھ کر سے دور، خالد پیش می گفتی مارش نیز میگو یہ کہ قوت سے کوئی الك المدرسي أول الملك من تشاء ونوع الذيب میں آجائے ہم کیا یا نہ کر سکیں ، اس نے یہ ظلم کیا آورد مطلوب نہیں سک 10 میں اس مسئلہ کو پایا گیا نہ کہیں نشاء و تعز من تشارو تا من تشار پیدل قلم نے ہماری اس تحریک کنہ شہر کھا ، اس لیے قدرت ار آیا پہلے پہلے عوامل نہیں ہوتا اسے کیا اور انکے بھی کیاشی و تقدیم میں نے اوپر سایہ اسلام کا ایک طرف لوگوں نے اجر میاد یعنی شہر ہے یہ ہے کرا قیام تقدیم سے مسلہ حل کیا جائے اجسام است امی اور اس نیک و فکر اور جوایز میرے مانے ہو گئے، سینے جھیل گئے سب کچھ مہرا، ان کو تو جھیل گیا تیب سے مسلمان ہو گیا انسانده بود، انجام تقسیم پر کی میں اتا ہوں اور میں نے کہا اور ماحب انشاء اللہ تعالی نے بازاری اور جناب در جیب کی یاد تان کر یوں اسانی سے عمل کرنے کا راستہ کھل گیا ہی کی تر کر نے کا ارادہ کہ پیر سے ڈرتے ہو تو اسلام ان کی کا میا یا الان الافرادی تحریک کی ایک شاندار باتیں اس کے پینا میں کتنا ہونا اللہ نے ان کی مفت میں نہیں کرتے ہو۔اگروں پر آپ کو سیدنی داستان ہے جو بغیر بات ہو گی۔شہبہ عظیم فوت ۵۳ اور لوگ نہ ان سے پیچھے الفاظ و کمال بیٹے اس لیے ہوا اور نہیں ہے۔اگر اللہ کے راضی کرنے کے لیے تم کی، شہر اخر مرکوزہ نہ ہو تے ہیں ، مظالم نے اس اپنا اس کے کہ تیور اور خود کہا ہے کہ ہم اقدام و نظریں مسلما ہوں گے کے مقابہ کو ماتو توی کی امر کی اشاعت کا تحریک کو یز مری کی اور قوم کوستی را در تفتق بناد یا ندارد ہے۔انکی علوم کے پروگے ا ا بھی پہنیں لے کر اس وقت وہ کیا اتنا برا ہوں اتنا اپنا سینہ کے اندر جب سے یہ شاہرہ امجد کر نے منزل مقص: ابھی آئے۔انا بھی ختم نا میں ہی اس میں کہا تھا علیحدہ ملاقات تو یہ پینے یا ہے تا دریا میں میرے علم میں اس سے بڑا المیہ وا ایک مال ہوا اور تم نے قومی اصول کند بایہ ہو گا کہ مسلہ یہاں سے اتنی جلد کے عمل ہوگا؟ میں نے کیا ہوا نہ محدود ہیں یا در سری کا نظریوں کے اے رہنا قسیم سے سائن ان ہو سکتے ہیں ہم میں کتے کیا ہی کہنا ہے کہ نہیں ہے میرا بیان کا منہ ہے ، آپ دشت مینا محمد انور تھاجو کسی کے بھرا ہوا تھا ایک لا کھو ام کہاں اور امر ناچاپ بنے ہیں اہم تو ا نلوم رہے کے وزیر اعظم میں اس نے پارٹی کے لیے ہیں امشب توضیح معنوں میں آتا ہے اور لوگ بغیر صفوں کے بیٹے کا ہم تھوڑے رہے ہیں نے ان سے کیا تھا کریں نہیں آپ کے پاک ہے، ایک پکی پارٹی کو پورا پورا نہیں ہوئے تھے، بینی دو لاکی تھی اندر تھا اور اس سے بارک ہو ہے کہ ماہم تجھ سے نہیں لینا چاہےتو و مہارا نہتے نہیں ہوں وہ آپ کو اکثر نے پارٹی کے لیڈر این دو گیا اس سے باہر تھا۔ان سب نے پر جوش الدائن گر تم نے مان لیا تو اپنی پارٹی کی کز او مت چھوڑو میں کہا ہم سب مرنے کے لیے قبیلہ ہیں ، آخر میں میں بات تم ان تھے۔کی چہیتے ہیں تشہ پایا گیا، ان ہے۔مرن کر یہ کہ ہوا کرو ہم آن ہو جائے گا ایک نے بھی ایک جملہ کہا جو بہت سخت تھا اور مزاج کے اس سے اور کہے کہ تین مہینے اس نے میر انڈ پایا نہیں لکھنے میں ہو سکتا ہے، یہ تو وہ شخص کہ سکتا ہے جو اکثری خلاف تھا میں نے کیا کہ بھٹو صاحب لکھنے والے کیا وہ سلام کرنے کے منہ کی بیاہ انہاری تو یہ کہتے پارٹی کا لی ہو۔تم وزیر اعظم بھی ہو اور اکثریتی پانی کے ہیں اور سنے والے من میں ! اب میں اللہ کے لیے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور پنجاب کیہ احمدیہ کے بیٹے بھی ہوں ، حسب دارد ایرانہ تیاری میت یہ ہے کرتا ہوں کہ مات تامریکا کے بعد اگر فیصلہ آپ نے الم نے بعد مظالم ڈھائے، جن کے تصور ہے ان پر بارہ منٹ یہ اپنے کام کیا اپنی قومی اکیلی نے پیار می خواہش میں مسلمابق نہیں کیا تو آنکھ بھر لی ہے کچھ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، الا للہ مانا یہ یوں پندرہ منٹ میں کام کر لیا سینیٹ نے وار منٹ میں کی وزارت علمی مبارک ہوں آپ پر قادیانیوں میں جاکر وں کو نہ ہی ان کوشت یا ان کو سوئیاں چھو لیں کام کر لیا انسان کا بھٹو صاحب نہیں مانتے تھے انہیں بیٹھ جائیے۔آپ ان کا مبارک ہوں ، آپ ان کے کیا کچھ کیا اتنے امام کے کرم اوردن او واشر ہ سے مانتے تھے ایجود ہے کہ ہندے موٹے میں اس نے بھی کام وزیر اعظم ہوں گے ہمار ے نہیں ہوں گے یا نہیں ان کل پر مان ہوتی پردہ نشین طور شی ہو نے سے کرے دیار والی کیا یا کہ ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا اور تمہیں پھر کہنا پڑا۔انہوں نے بلی اور یہ تمام مرامی اپنی ہوتی رفتاری سے تھے میں جمنے کی میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قوم کے اتحاد اور قوم ا پرادش منوی کی میتوان ہوگیا کہ کیا ہورہا ہے۔کی تنظیم میں بڑی طاقت ہے ، اس کے ساتھ اور مظلوم ان کو گرفتار کرنے کے لیے محمد یوں کا کہ میں یونانی ہو جانا یہ ان کا فرق سے کوئی بات تھی، انہوں بن کر کے رہتا ، اتحاد کو وہاں منظوم نور لیس امن اس کا کچھ نہیں کیا گیا ہی سے ایسے اسکو یہ ہے ہم نے نے کہا ہے سب وسائل بیات مہینے تھے اند اخبار سے ہو۔پھر کامیابی انشاء اللہ آپ کے قدم چاہے اپنے روتر سیہ اندراج کو ملاقات ہوئی تحاری کا مقالہ جاری پاس پر میں تمہارے پاس نہ لیا دی جائے گی یہ ہمیشہ کے لیے ہماری تاریخ ہے ، اس سے زیادہ میں انیہ ہمارے پاس ، ہمارے پاس کوئی باقی می پر