اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 576
576 أن هُوَ إِلا عَبْد العَمنا عليه وہ کیا ہے ایک بندہ ہے جس پر ہم نے فضل گیا۔القصہ جب دوسری بار قندہار سے مراجعت کر کے اپنے ملک میں پہنچے۔تو لوگوں کو توحید اور اتباع سنت کی طرف بلانا اور شرک اور بدعت اور مروج رسموں کا رد کرنا شروع کیا۔زمانے کے لوگ خاص و عام اور عالم اور حاکم جو سب کے سب آپ کے فرمانبردار تھے آپ کی اس کارروائی پر آپ کے مخالف ہو گئے۔اور ایذا رسانی کے در پے۔اس نواح کے عالمہ اس مسئلہ میں کہ مذہب کے خلاف حدیث پر عمل کرنا چاہئے۔بجٹ کرنے کے لئے جمع ہو گئے۔اور انہوں نے اقرار کیا کہ حق آپ کی طرف ہے۔اور یہ بھی آپ کی ایک کرامت تھی کہ سب نے اپنا خطا پر ہونا مان لیا۔اور پھر انجناب کا حق پر ہونا قبول کر لیا حالانکہ مقابلہ کے وقت ای اقرار کرنانیان کالا معلوم ہوا ہے اور دور دُور کے عالموں نے یہ ماجراسنا تو وہ بھی گفتگو و مباحثہ سے ڈر گئے۔اور لشکروں کو جمع کیا۔اور لڑائی کا ارادہ کیا۔مگر چونکہ آپ کے تابعدار اور دوست اور معتقد بھی بہت تھے۔مخالفوں سے کچھ نہ بن سکا۔ناچار وقت کے حاکموں کے پاس انہوں نے شکایت کی۔اور تقسیم کے بہتان اور جھوٹ آپ پر باند ہے۔اوربعض ٹھیوں کی وساطت سے امیر کے گوش مد ہوش میں یہ بات ڈلوادی کہ اس شخص کو اگر ایک سال تک ایسا ہی چھوڑ دو گے تو تمہارے ملک اور بادشاہی کو خراب کر دیگا۔اور سلطنت میں ایک خلال عظیم ڈالدیگا۔دولت کے تمام امیر و وزیر اور عہدہ دار اس شخص کے معتقد اور مرید ہیں۔پس اس وقت بعض آپ کے دوستوں نے یہی مصلحت دی کہ امیر وقت کے طلب کرنے سے پہلے ہم کابل میں جاویں۔اور امیر کے سامنے مخالفین کے ساتھ بحث کریں آنجناب کی مرضی تو نہ تھی۔مگر دوستوں کی رعایت کے لئے شہر کابل میں امیر دوست محمد خان کے پاس جو اس وقت کابل کا امیر تھا۔چلے گئے۔اور علماء مخالفین بھی حاضر ہوئے۔ان کے سرپرست خان ملا درانی و ملا مشکی انڈری اور ملا نصر اللہ لوہانی تھے۔اور اُن کے سوا سینکڑوں ملا جمع تھے سر بنے پوشیدہ بھی اتفاق کیا کہ سیاست میں کبھی ہم اس شخص پر غالب نہ ہونگے۔جھوٹی گواہی اس پر مباحثہ دینی چاہئے۔ورنہ اگر بحث تک نوبت پہنچیگی۔تو ہم سب شرمندہ اور رسوا ہونگے۔