اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 577 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 577

577 14 سخت چوٹ نہ لگی بسبب نشیمنوں کے درمیان سے سلامت نکل آئے۔اور آپ کا اسباب اور کتابیں سب دشمنوں کے ہاتھ میں آئیں بعض عالم اور آپ کے تابعدار صلحہ ان کے ساتھ مل گئے اور جب دیکھا کہ یہ ظالم ظلم کرتے ہیں تو جدا جدا ہو گئے۔اور آپ کے اسباب اور منتشر کتا بوں کو ایک جگہ جمع کیا اور اور دشمنوں سے ان کو بچا لیا۔اور آپ کی خدمت بابرکت میں پہنچا دیا۔یہ سب رب العالمین کی حفاظت اور حمایت اور تربیت تھی۔ورنہ ایسے ہیمنوں سے مال اور جہان کا سلامت رہنا عقل کے خلاف ہے۔حاصل کلام آپ بڑے عالموں اور ظالم حاکموں کے ہاتھ سے جو اٹھاتے دیہ پر یہ اور کوہ کوہ پھرتے رہے۔اور جس جگہ پہنچے وہاں کے لوگ آپ کے مخالف ہو جاتے۔اور وہاں سے نکال دیتے سبحان اللہ ان انتخانوں اور جلا وطنی اور تمام جہان کی دشمنی میں آپ ایسے مرفو الحال اور خوش علیش رہتے کہ کوئی امیر آپ سے بڑھ کر اطیب عیش میں نے نہیں دیکھا۔گویا یہ ہے قسم کی نعمتیں آپ کے سری ہستی تھیں۔وہ کون نعمت تھی۔جو آپ کے پاس ان پہاڑوں میں نہیں بیچتی تھی ان دنوں میں امیر دوست محمد خان نے شہر ہرات میں وفات پائی۔چونکہ ان پہاڑوں میں آپ کوئی سکونت کی جگہ نہیں پاتے تھے۔پھر اپنے وطن کی طرف کہ وہاں کے باشند سے آپ کے عقیدت مند تھے مراجعت کی امیر شیر علیخان ملک کا امیر تھا۔انہیں مر سے عالموں نے امیر شیر علی خان کو آپ کی ھوا۔بڑے ایزا دینے پر ترغیب دی۔آپ اسیروں کی ملاقات سے نہایت نفرت رکھتے تھے۔اس قدر امتحانوں میں بھی کبھی ایسی امیر کے پاس نہ گئے۔اسی وقت کے نام ایک خط اس مضمون کا لکھا۔کہ میں مظلوم ہوں اور حاسدوں کے افترا اور تہمت کے ساتھ تمہارے باپ نے مجھ کو اپنے ملک سے بدر کر دیا تھا تم اس کام میں اپنے باپ کی تابعداری نہ کرو۔امیر نے جواب میں لکھا کہ میںایک شخص کی تمام رعایا کے خلاف رعایت نہیں کر سکتا۔تم کولازم ہے۔کہ ہماری ولایت سے باہر ہو جاؤ۔آپ حیران ہوئے۔کہ اب کس طرف جاؤں۔اور کوئی جگہ بھاگنے کی نہ دیکھی جنگل کی کسی غار میں اکیلے جا کر جھیپ گئے۔اور کچھ مدت پوشیدہ رہے۔ان دنوں میں یہ الہام ہوا۔فَقُطِعَ دَائِرُ القومِ الذين ظلموا و احمد پھر کٹ گئی بوڑھے ان ظالموں کی اور تعریف ہے لله رب العالمين واسطے اللہ کے جور ہے ، سارے جہان کا۔اور یہ شعر بھی الہام ہوا۔نے