اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 43 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 43

43 کانگریسی ملاؤں نے سیاست کانگریس کے لیڈروں کے چرنوں میں بیٹھ کر 1918ء سے 1947ء تک سیکھی۔یہ چانکیہ جو بدھ کے زمانے کا مشہور چالاک اور عیار قانون دان تھا اور ٹیکسلا کی یو نیورسٹی کا پروفیسر بھی تھا وہ چنیوٹ کا رہنے والا تھا۔اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ چنیوٹ کا خمیر کہاں سے اٹھا ہے۔اب دیکھیں کیا کارروائی کی ہے۔یہ میں کوئی خیالی بات نہیں کر رہا میری عمر اس وقت اتنی سال کے قریب ہے۔میں نے لاکھوں صفحے پڑھے ہیں۔ان حضرات کی بھی میری لائبریری میں کتابیں موجود ہیں۔جو بات ہوئی اس کو سمجھیں۔چونکہ بھٹو صاحب یہ سہرا باندھنا چاہتے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ضرور چاہئے تھا کیونکہ وہ قوم جس کو اتنا دردناک سانحہ پیش آیا جو قیامت سے کم نہیں تھا۔مجھے یاد ہے کہ جب میں نے ریڈیو پر سقوط ڈھاکہ کی خبر سنی تو زار و قطار میں رونے لگا کیونکہ قیام پاکستان میں جماعت احمدیہ نے اس شان سے حصہ لیا ہے کہ وہ بے نظیر ہے۔آپ اگر مطالعہ کریں مولانا رئیس احمد جعفری کی کتاب ” قائد اعظم اور ان کا عہد کا ، اس میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر ہارون الرشید، یہ احمدی تھے اور شیخ محمد یوسف صاحب کے فرزند تھے۔گڑھ مکیشٹر میں جب فساد ہوا اور مہاسبھائی غنڈوں نے مسلمانوں کا اس موقع پر قتل عام کیا تو ڈاکٹر ہارون الرشید جو پُر جوش مسلم لیگی تھے اور اس وقت طبی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔اس وقت غنڈوں نے ان کو بھی گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔اس کے بعد وہاں لکھا ہے کہ ان کے گردان غنڈوں نے گھیرا ڈالا اور گھیرا ڈالنے کے بعد ان کی بیوی سے کہا کہ کپڑے اتار دو اور اس کے بعد یہ کہا کہ یا تو ہم میں سے کسی کے ساتھ شادی کر لو ورنہ تمہیں بھی ختم کیا جاتا ہے۔بیچاری پاگل ہوگئی۔سامنے ندی چل رہی تھی۔اس نے اسی طرح بر ہنہ صورت میں چھلانگ لگا دی۔میلوں کے بعد یہ بظاہر جو لاش تھی وہ ایک گاؤں کے قریب جو پہنچی تو ایک مسلمان نے اس کو دیکھا اور جلدی سے نعش کو باہر نکالا۔اس کے دل میں آیا کہ ہو سکتا ہے کہ ابھی یہ زندہ ہو۔چنانچہ اس وقت خدا نے اپنے فضل کے ساتھ یہ سامان کیا کہ اس احمدی خاتون کو جن کا اصلی وطن لا ہور تھا، پانی نکالنے کی کوشش کی گئی اور آہستہ آہستہ سانس جاری ہو گیا۔پھر اللہ کے فضل