اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 42 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 42

42 تفصیل اس کی یہ ہے کہ بھٹو صاحب جنوبی ایشیا کی فرمانروائی اور قیادت اور لیڈرشپ کے خواب دیکھ رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ قوم کو جو مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد بڑی منتشر صورت میں تھی، کم از کم اس کو سنبھالا دے کر متفقہ آئین (Constitution) پر جمع کر دیں۔یہ بات بہت ضروری تھی اور قابل ستائش تھی کہ جو بچا کچھا ملک تھا حضرت قائد اعظم کا، کیونکہ اصل ملک تو وہ تھا جس میں اکثریت بنگال کے بزرگوں کی تھی۔یہ تو ایک واضح حقیقت ہے۔بعض نے اس وقت کہا کہ اب قائد اعظم کا یہ تو پاکستان نہیں رہ گیا کیونکہ حضرت قائد اعظم کے پاکستان میں تو Majority مشرقی بنگال کی تھی۔تو اب یہ بھٹو صاحب کا ایک نیا پاکستان ہے۔تو اب جو کہنا چاہئے کہ بھٹو صاحب کے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے۔بھٹو صاحب چاہتے تھے کہ یہ سہرا ان کے سر بندھے کہ جو میرا پاکستان ہے اس میں Unanimously First Constitution جو تیار کیا جائے پیپلز پارٹی کی طرف سے وہ متحدہ طور پر ہو اور پولیٹیکل ( Political) طور پر یہ بہت بڑا کریڈٹ ہے جو کسی قائد کو جا سکتا تھا۔بہت کم ملکوں کے لیڈروں کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کیونکہ اپوزیشن موجود ہوتی ہے۔Majortiy پر عام طور پر فیصلے ہوتے ہیں۔بہت کم قانون ہیں جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ متفقہ طور پر منظور کئے گئے۔پہلے ان کے ریزولیوشن رکھے گئے اور اس کے بعد پھر ان کی منظوری دی گئی اور پھر وہ قانون بنے۔بہر حال سہرا باندھنا پیش نظر تھا اور سہرا باندھنا ہی دراصل ہمارے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کا مذہب رہا ہے۔چنانچہ جناب مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کا بیان تسنیم“ میں چھپا ہوا موجود ہے 1953ء میں۔آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔مولانا نے ایک بیان دیا کہ میں قادیانیوں کے خلاف جو تحریک اٹھی ہے اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے 1953ء کی اس ایجی ٹیشن میں مجلس احرار کے ساتھ شامل ہوالیکن میں اب اس سے بریت کا اعلان کرتا ہوں۔اس واسطے کہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ دراصل احراری اپنے مقاصد کے لئے مسلمانوں کے سروں کے سودے کر رہے ہیں اور ان کے سامنے تحفظ ختم نبوت نہیں بلکہ نام کا سہرا ہے اور وہ تحریک جس کی بنیادیں یہ ہوں کہ ہم نے سہرا باندھنا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ، تو سہرا باندھنے کا ہی مذہب ہے دراصل۔تو یہ سہرا باندھنا چاہتے تھے۔(روز نامہ تسنیم لاہور 2 جولائی 1955، صفحہ 3 کالم 4-5)