اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 41 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 41

41 ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولانا ! اب ہم قومی اسمبلی کی طرف چلتے ہیں۔آپ یہ فرمائیے کہ رہبر کمیٹی، خصوصی کمیٹی ایک ہی چیز تھیں یا الگ الگ کمیٹیاں تھیں؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔پورے ایوان کو خصوصی کمیٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔جیسا میں نے عرض کیا ہے پورا ایوان جو تھا اس کو کنورٹ (Convert) کیا گیا تھا خصوصی یا سپیشل کمیٹی میں۔اس کا کورم نمائندگی کے لحاظ سے چالیس ممبروں کا مقرر کیا گیا تھا۔تمہیں اس میں پیپلز پارٹی کے ممبر نمائندہ تھے اور دس اپوزیشن کے تھے۔تو یہ اجلاس ہوتے تھے اسمبلی ہال میں۔تو یہ خصوصی کمیٹی کہلاتی ہے۔اس کمیٹی کے اندر جس طرح کمیٹی در کمیٹی ہوتی ہے۔ایک کمیٹی اور مقرر کی گئی جو کہ ان کی راہنمائی کے لئے لائن تجویز کرتی تھی۔خاکے تیار کرتی تھی ، راہنمائی کرتی تھی۔یہ رہبر کمیٹی (Steering Committee) تھی اور اس میں عبد الحفیظ پیرزادہ تھے،مفتی محمود صاحب تھے۔اور اسی طرح اور بھی بعض اراکین تھے۔( تو اس واسطے یہ اس کمیٹی کا وہ حصہ تھا جس کی طرف سے قرار داد پیش کی گئی۔جس وقت خصوصی کمیٹی کے اجلاس مکمل ہو گئے تو اس کمیٹی نے قرار داد ایوان کے سامنے پیش کی اور وہ قرارداد دراصل بھٹو صاحب کی مصلحت خاص اور علماء کی چالا کی سے، 1973ء کے آئین میں وہ جو حلف نامے تھے ، اس میں موجود تھی اور اس ساری قرار داد کی عبارت پرویزی خیال کے وزیر مملکت ملک جعفر خان کی تحریر کردہ تھی۔1973ء کا آئین اور پیش کردہ قرارداد حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف اس قرارداد کے پیش کرنے میں مسلسل مہم جوئی ہے اور فوری محرک کے طور پر ربوہ ریلوے سٹیشن کا واقعہ بنایا گیا۔اور پھر اس کے نتیجے میں 7 ستمبر کا فیصلہ ہوا ہے۔قومی اسمبلی میں اس حوالہ سے کیا قرار داد پیش ہوئی جس کی بناء پر یہ فیصلہ کیا گیا ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ بہت ہی اہم سوال ہے لیکن میں نہایت ادب سے پیشتر اس کے کہ قرارداد کا متن آپ بزرگوں کی خدمت میں عرض کروں ، یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس قرار داد کی بنیاد نہایت چالاکی سے، شاطرانہ چالوں کے ساتھ پاکستان کے کانگریسی ملاؤں نے 1973ء میں رکھ دی تھی۔اور وہ بنیاد رکھی گئی 1973 ء کے آئین میں۔