اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 534
534 کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ایک دلچسپ ترین واقعہ اس میں یہ بھی ہے جو میں صرف نمونہ بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہدایت دینے کا ایک حیرت انگیز آسمانی طریق تھا۔جس کی ایک مثال جماعت کی تاریخ میں ملتی ہے۔میرا خیال ہے یہ عالم روحانی کے لعل و جواہر کی جو اقساط ہیں ان میں بھی یہ بیان کیا تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے جب اس کو پڑھا تو حضور نے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ حوالہ جس ”الحکم“ سے لیا گیا ہے فوری طور پر اس کا عکس لیا جائے۔چنانچہ مولانا عطاء المجیب راشد صاحب نے مجھے ٹیکس کیا اور میں نے اسی رات وہ الحکم بھی حضور کی خدمت میں بھجوا دیا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی روایت ہے اور یہ ساری تفصیل احکام میں اسی زمانے میں چھپ چکی تھی۔اسی حوالہ سے مولانا عبدالرحمن صاحب مبشر نے یہ لکھا ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ 1903ء کا واقعہ ہے جس وقت کہ آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے کہ اسی دوران محمد افضل صاحب مرحوم ( با بومحمد افضل صاحب مشرقی افریقہ سے آنے والے البدر کے پہلے ایڈیٹر ) فوت ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو دوسرا ایڈیٹر مقرر کیا۔پہلے ” البدر نام تھا پھر آپ کے زمانے سے جو شروع ہوا وہ بدر کے نام سے شروع ہوا۔تو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کہتے ہیں کہ میں ہیڈ ماسٹر تھا تو مجھے پچھلی رات کو خواب میں ایک لفافہ دکھایا گیا جس پر ایڈریس زیرک خان محمد نظام الدین مسجد کتب شاہی آصف آباد لکھا تھا۔میں جب بیدار ہوا اور سٹاف میں تذکرہ کیا تو سب نے کہا کہ اس نام پر کوئی کا رڈلکھا جائے۔چند دن کے بعد جب ڈاکخانہ سے اس کے جواب میں کوئی خط نہ آیا تو پھر مجھے دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ کو چاہئے کہ صرف یہ نہ لکھیں کہ آپ مہربانی کر کے مجھے جواب دیں۔میں آپ سے رابطہ کرنا چاہتا ہوں بلکہ آپ پوری تفصیل لکھیں خواب کی کہ اس وجہ سے میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔یہ خدا کی تحریک ہے۔لیکن اس کے آٹھ دن بعد گذر گئے پھر بھی کوئی کارڈ نہ آیا۔آخر پر آپ نے اخبار ” الحکم“ میں اپنی یہ خواب شائع کی۔چند روز کے بعد حیدر آباد دکن سے ایک خط آیا اور خط لکھنے والے نظام الدین ہی تھے۔انہوں نے یہ لکھا کہ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔مجھے بھی ضرورت تھی قادیان کے