اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 524 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 524

524 سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔زبور میں حضرت داؤد کی ابتدائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں۔اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں۔اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیا ء ان مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پاسکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ابتلاء نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی۔اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں۔اور کیسے بچے وفا دار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں، اور بڑے بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے ،اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے۔یہاں تک کہ ربانی مددوں نے بھی ، جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے، اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں۔اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویاوہ ان پر ذرا مہربان نہیں۔بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے۔ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں پر وہ ایسے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور ست اور دل شکستہ نہ ہوئے۔بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے