اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 523
523 ہے۔اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے۔“ ( فتح اسلام ، صفحہ 12 تا 17 طبع اول۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 9 تا 11) ہم تہی دست تیرے در چلے آئے ہیں لطف سے اپنے عطا کر ید بیضاء ہم کو اللهم صل و سلم علی سیدنا و مولانا و شفيعنا محمد و بارک علیه و اله بعدد غمه و حزنه لهذه الامة وانزل عليه انوار رحمتك الى الابد۔اللهم آمين۔ثم آمين۔حضرت مسیح پاک کے علم مبارک سے ابتلاؤں کی فلاسفی ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔1953ء، 1974ء اور 1984ء عالمگیر جماعت احمدیہ کے لئے ابتلاء کے سال ہیں۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابتلاؤں کی کیا فلاسفی بیان کی ہے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے شہرہ آفاق اور مشہور عالم "سبز اشتہار میں ابتلاؤں کی فلاسفی پر ایک نہایت بصیرت افروز رنگ میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے۔اس کا ایک ایک لفظ سونے سے لکھنے کے لائق ہے۔فرمایا:۔ابتلا جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کر کے ان کو دکھاتا ہے۔یہ ابتلا اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام ونشان مٹا دیوے۔کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عز و جل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے اور وفا دار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے۔بلکہ حقیقت میں وہ ابتلا کہ جو شیر بر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے۔اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند منار تک پہنچاوے اور الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھاوے۔یہی