اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 515 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 515

515 اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں۔نہایت توجہ سے سننے کے لائق ہیں۔محمد عربی ﷺ نے اس ایک فقرے میں بیسویں اور اکیسویں صدی میں ملاؤں کی سیاست کا پوری طرح پوسٹ مارٹم کر دیا ہے۔دیکھیں اور غور کریں۔حضور نے کوئی گالی نہیں دی۔حقیقت بیان کی ہے۔فرمایا وہ بندر ہوں گے اور خنزیر ہوں گے اور کہتیکیا ہوں گے ؟ علماء اسلام ، بڑے بڑے خطاب لمبے لمبے جیتے ان کے ہوں گے۔اور خطاب کے بغیر تو ملاں ہوتے ہی نہیں ہیں۔چنیوٹ کا ملاں خود اشتہار دیتا تھا اور بڑے بڑے القاب خود لکھتا تھا۔ایک ملاں نے بڑے القاب لکھے غلام قادر جیلانی ، مجددی، نقشبندی ، چشتی اور پتہ نہیں کیا کچھ انہوں نے لکھا۔تو وزٹنگ کارڈ (Visiting Card) لے کر ایک ریسٹورنٹ کے مینجر سے ملا اور کہا کہ مجھے ا کا موڈ یشن چاہئے جاب کے لئے۔اس نے جب وہ وزٹنگ کارڈ لمبا سا دیکھا تو اس کا رنگ فق ہو گیا۔کہنے لگا آپ کی تشریف آوری کا شکریہ۔مگر اتنے آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔اس نے سمجھا کہ یہ تو ایک فوج آجائے گی۔میں اتنے کمرے کہاں سے مہیا کروں گا۔تو القاب کے بغیر نہیں رہتے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کے القاب پر نہ جانا، وہ بند اور خنزیر ہوں گے۔میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بندر کھڑا ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ؟ رکوع بھی کر سکتا ہے؟ یقینا کر سکتا ہے۔سجدہ بھی کر سکتا ہے کہ نہیں؟ یقیناً کر سکتا ہے۔آپ نے مری میں لنگور دیکھیں ہوں گے۔سامنے آتے تھے، کھاتے بھی تھے ، پھر سجدے بھی کرتے تھے۔سارے کام کرتے ہیں مگر آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا بندر نظام مصطفی قائم کر سکتا ہے؟ نہیں!! اس واسطے کہ نقالی کر سکتا ہے وہ۔حقیقت سے بالکل خالی ہے۔تو خدا کے رسول نے فرمایا کہ ان کے سجدوں اور خطبوں پر نہ جانا۔وہ بندر ہیں۔اسلام کی روح ان میں موجود نہیں ہے۔دیکھیں کتنی واضح بات ہوگئی۔ابھی حال ہی میں یہ گذرا ہے رؤیت ہلال کا معاملہ ساری دنیا میں ایک ہنگامہ مچا ہوا ہے۔یہ وہ ملاں تھا جس نے انگریز کے زمانے میں یہاں تک فتویٰ دیا کہ اگر ریڈیو پر بھی خبر آجائے کہ چاند دیکھا گیا ہے تو اس پر عمل کرنا نا جائز ہے۔کیونکہ یہ شیطان کا آلہ ہے۔ریڈیو پر اعلان ہوتا ہے۔چونکہ انگریزوں کا ریڈیو ہے اس پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔جناب رشید گنگوہی صاحب کا یہ فتویٰ ہے کہ منی