اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 516
516 آرڈر کا بھجوانا بھی ناجائز ہے۔(فتاوی رشیدیہ صفحہ 431-430 ناشر محمدسعید اینڈ سنز قرآن محل۔کراچی ) اور یہ حقیقت ہے کہ آج تک جتنی بڑی بڑی ایجادیں ہوئی ہیں ملاں نے اس کو نا جائز قرار دیا ہے۔سعودی عرب کی تاریخ میں لکھا ہے کہ شاہ ابن سعود نے کہا کہ ملاؤں نے مجھے اتنا تنگ کیا کہ پہلے ٹیلی فون لگایا گیا تو یہ فتویٰ دیا گیا کہ یہ شیطان آواز پہنچاتا ہے۔تو میں نے اس وقت یہ کوشش کی کہ اذان دی جائے پھر ان کو سنوائی جائے اور یہ کہا جائے کہ کچھ شرم کرو۔شیطان بھی کبھی اذان دیتا ہے۔اس کے بعد پھر یہ حملہ جو ٹیلی فون پر تھا، ختم ہوا۔پھر کہنے لگے کہ میں نے پہلی کار منگوائی تھی غالباًا امریکہ سے اور ملاں نے اس کو آگ لگا دی اور کہا کہ یہ شیطانی چرخہ ہے۔پھر لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر فتوے موجود ہیں۔میرے پاس پارٹیشن سے پہلے کی کتاب موجود ہے۔ملاؤں کا فتویٰ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر خطبہ جمعہ میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور نماز اس کی وجہ سے پڑھنا ، وہ تو سخت مکروہ ہے۔اس واسطے کہ اس میں آواز اصل نہیں ہوتی۔وہ تو آواز اس آلہ کی ہوتی ہے اگر چہ سنائی دیتی ہے کہ یہ امام صاحب پڑھ رہے ہیں اور آج دیکھیں کہ حکومت جہاں لاؤڈ اسپیکر کی ممانعت کرتی ہے ، ملاں کہتے ہیں مداخلت فی الدین ہو گئی ہے۔اسی طرح رؤیت ہلال کے متعلق ان کا 1947ء کا فتویٰ بھی یہی تھا کہ جی اگر حکومت کی طرف سے اعلان ہو تو ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔اب اس کے بعد یہ کتاب چھپی ” القول السدید از قلم مناظر اسلام حضرت صوفی محمد اللہ دتہ صاحب“ شائع کرنے والا ادارہ اشاعۃ العلوم وسن پورہ افغان سٹریٹ لاہور۔اب پتہ نہیں کہاں کہاں اسلام کے مناظرے کئے؟ کتنے کافروں کو مسلمان بنایا؟ لیکن بڑا لقب ہے ” مناظر اسلام اور حضرت بھی ہیں اور صوفی بھی ہیں۔فرماتے ہیں:۔چونکہ انگریزی دور اور قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں یہ حالت اعتماد نہ تھی لہذا مجبوراً عدم اعتماد کافتویٰ رہا۔مگر اب جبکہ با نتظام حکومت پاکستان رؤیت ہلال کمیٹی کے حکم سے یعنی علماء کرام کے حکم سے کہ کمیٹی کے ارکان ہیں، ثبوت شرعی رؤیت ہلال بذریعہ ریڈیو اعلان کیا جاتا ہے تو اعتبار ضروری و لازم ہو گیا۔“ ( صفحہ 18 ) یعنی اب چونکہ ملاں رؤیت ہلال کمیٹی میں آگئے ہیں اس لئے اب ان کی بات کو ماننا