اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 514 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 514

514 فرشتے آتے تھے اور قینچیوں سے ان کی زبانیں کاٹتے تھے۔کاٹنے کے بعد وہ زبانیں پھر لمبی ہو جاتیں۔پھر دوزخ کے فرشتے ان کو قینچیوں سے کاٹتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبریل نے فرمایا کہ یا رسول اللہ یہ آپ کی امت کے مولوی اور خطیب ہیں جو لمبی لمبی تقریر میں کریں گے مگر اس پر عمل نہیں کریں گے۔عمل اور ہو گا اور خطبے بالکل ان کے اور ہوں گے۔( معجم الاوسط باب من اسمہ احمد جز و اوّل صفحہ 131 مؤلف ابوالقاسم الطمر انی متوفی 360 ھ ناشر دار الحرمین۔قاہرہ ،حلیۃ الاولیاء باب مالک بن دینار جزء 2 صفحہ 386 مؤلفہ ابونعیم متوفی 430 ناشر العادة بجوار محافظة مصرسن اشاعت 1974) خدا نے تو اس رات یہ دکھا دیا۔معراج سے متعلق حضرت سرمد رحمتہ اللہ علیہ کا ایک شعر بھی یاد رکھنا چاہئے۔فرماتے ہیں کہ ملا گوید که فلک پر شد احمد احمد در شد سرمد گوید فلک صلى الله کہ ملاں تو یہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ آسمان پر گئے تھے مگر سرمد کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت آسمان پر نہیں گئے مگر آسمان محمد کی پیشوائی کے لئے آپ کے پاس آیا۔پہلے بزرگوں نے یہ لکھا ہے غالباً حضرت نظام الدین اولیاء یا بعض دوسرے اکابر نے اور یہ شائع شدہ ہے۔یہ کتاب یہاں لا ہور سے دوبارہ چھپی ہے۔اس میں یہ لکھا ہے کہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ آنحضور آسمان پر نہیں گئے بلکہ آسمان آنحضور ﷺ کی پیشوائی کے لئے آگیا ہے۔تو اس سے محمدی مقام کی زیادہ عظمت ثابت ہوتی ہے۔اور حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے تفسیر صغیر میں دَنی فَتَدَلی کی تفسیر عجیب وجد آفرین رنگ میں کی ہے۔اور تفسیر بھی ترجمے کی شکل میں کی ہے۔اور ترجمہ یہ کیا ہے کہ دَنَی فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم : 9-10) کہ آنحضرت اللہ خدا کے قریب ہوئے اور خدا آپ کے قریب ہوا۔فرمایا کہ یہ جو سمجھتے ہیں کہ آنحضرت آسمان پر نہیں گئے بلکہ آسمان محمد مصطفیٰ کے قدموں میں آیا ہے بلکہ قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ معاملہ یہیں تک نہیں رہا بلکہ اس کا ئنات کا خدا محمد رسول اللہ کے استقبال کے لئے آسمان سے نازل ہوا ہے۔تو بہر حال معراج میں بھی یہ بتایا گیا۔