اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 513
513 ناز اتنا نہ کریں ہم کو ستانے والے اور بھی دور دور فلک ہیں ابھی آنے والے اب آگے دیکھیں۔آنحضور ﷺ نے آنے والے کے سلسلہ میں یہ بھی فرمایا۔یہ حدیث بہت ہی عظیم الشان ہے اور اسلام کی صداقت کا ایک روشن سورج کی طرح نشان ہے۔فرمایا:۔تكون فى امتى قزعة فيصير الناس الى علمائهم فاذا هم قردة وخنازير“ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب العدة باب ما جاء في من يستحل الخمر ) یہ کنز العمال“ کی چودہویں جلد میں شائع شدہ ہے۔اس کا صفحہ 280 ہے۔یہ کتاب بیروت سے چھپی ہے۔مؤسس الرسالہ اس کا نشریاتی ادارہ ہے۔اور علامہ علاؤالدین علی متقی بن حسام الدین الہندی رحمتہ اللہ علیہ (متوفی 975ء) کی یہ تالیف ہے۔علامہ سیوطی نے جامع الصغیر لکھی ہے۔دراصل یہی روایات ان سے لی ہیں مگر ان میں فرق صرف یہ کیا ہے کہ روایات میں سے سند کو نکال دیا ہے۔باقی اصل متن اس میں شامل کیا ہے۔تو یہ بہت ہی عظیم الشان کتاب ہے۔اس میں لکھا ہے کہ ” تكون في امتى قزعة“ میری امت میں ایک زمانہ آئے گا کہ بھا گڑ بچ جائے گی۔اور عالمی سطح پر ایک بہت بڑا سانحہ قیامت خیز پیش آئے گا اور اس کو دیکھ کر لوگ اپنے ملاؤں کے پاس جائیں گے۔فرمایا فاذا هم قردة وخنازیر مگر وہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ (جن کو آپ ملا سمجھتے تھے، مولوی قرار دیتے تھے، محافظ ختم نبوت قرار دیتے تھے ) فاذاهم قردة وخنازیر وہ بندر اور سو رہیں۔یہ کن کے الفاظ ہیں؟ خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ملے کے۔میں آپ سے درخواست کروں گا کہ اگر آپ بصیرت کی آنکھ سے اس حدیث کو دیکھیں تو آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ آنحضور ﷺ نے چودہ سو سال پہلے عرش سے آج کے ملاؤں کی سیاست کا نظارہ دیکھا اور اس کو دنیا کے سامنے بیان کیا۔حضور کو معراج میں بھی نظارہ دکھایا گیا تھا۔چنانچہ معراج کی حدیثوں میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ آنحضور علہ جب آسمان پر تشریف لے گئے تو آپ کو جنت دکھائی گئی ، دوزخ دکھائی گئی۔اور بعض ایسے لوگ دکھائے گئے جن کی لمبی لمبی زبانیں تھیں اور