اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 509
509 سنائی دے رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ دیو بندی جنہوں نے یہ سارا کھیل کھیلا ہے ختم نبوت کے نام پر، وہ آج اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ احمدیوں کو کلمہ سے الگ کیا جاسکے مگر وہ اس میں ناکام و نامراد ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے حالیہ خطبہ میں یہ فرمایا کہ باوجود دشمنوں کی انتہائی کوشش کے خدا کے فضل سے کلمہ محمد مصطفی ﷺ ہم سے چھینا نہیں جاسکا۔وہ ہماری جان ہے، وہ ہماری روح ہے۔یہ میرے پاس حق نواز جھنگوی کے ”خطبات“ کی پہلی جلد ہے۔جو عامرا کیڈ می ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور نے شائع کی ہے۔اس میں جھنگوی صاحب کی تقریر کا ایک فقرہ یہ لکھا ہے:۔کلمہ قادیانیوں نے اس وقت بھی نہیں چھوڑا تھا اور آج بھی نہیں چھوڑا۔‘ (صفحہ 209) اسی طرح دیوبندی اکابر میں سے مولانا محمد منظور نعمانی نے یہ لکھا۔یہ 1993ء کی کتاب ہے جس میں یہ شائع ہوا ہے۔عنوان اس کتاب کا ہے:۔خمینی اور اثناعشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ اس کتاب کے صفحہ 95 اور 96 پر لکھا ہے:۔قادیانی نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کلمہ گو ہیں بلکہ انہوں نے اپنے خاص مقاصد کے لئے اپنے نقطہ نظر کے مطابق ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنے طریقہ پر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا جو کام خاص کر یورپ اور افریقی ممالک میں کیا اس سے باخبر حضرات واقف ہیں۔اور خود ہندوستان میں قریباً نصف صدی تک اپنے کو مسلمان اور اسلام کا وکیل ثابت کرنے کے لئے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کا انہوں نے جس طرح مقابلہ کیا تحریری اور تقریری مناظرے مباحثے کئے۔وہ بہت پرانی بات نہیں ہے۔پھر ان کا کلمہ، ان کی اذان اور نماز وہی ہے جو عام امت مسلمہ کی ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں کے بارہ میں ان کے فقہی مسائل قریب قریب وہی ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں۔۔۔۔( کتنا زبردست اعتراف ہے۔پھر لکھا ہے ) لیکن