اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 502 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 502

502 یہ آپ دیکھیں کہ دیو بندی مولوی پیرمحمد اشرف 1984ء میں استعماری طاقتوں کی سر پرستی میں پاکستان سے اسرائیل میں پہنچا۔ان سے کیا کچھ سازش ہوئی؟ اس کے نتیجہ میں جب یہ شخص یہاں پر آیا ہے تو ” جنگ اور دوسرے اخباروں میں اس نے یہ اعلان کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کو (اسرائیل ) کو تسلیم کر لیں۔آپ مجھے یہ بتائیں جماعت احمدیہ نے 1947ء سے لے کر آج تک کبھی اس بات کی تحریک کی ہے کہ اقوام عالم کو اسرائیل کو حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہئے۔مگر یہ یہودی ایجنٹ تھے کہ جن کے رکن، اس وقت پاکستان کی مجلس شوری کے رکن بھی تھے پیراشرف ، یہ خفیہ طور پر وہاں پہنچے۔ساری بات یہ ہے کہ وہاں پہنچنے کے لئے استعماری طاقتیں اور وہاں کی یہودی حکومت ان سب کی سازش تھی اور وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ہم نے مصر کو تو رام کر لیا ہے۔اردن بھی تقریباً ہمارے ساتھ متاثر ہو چکا ہے۔تو اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو بھی اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ تسلیم کر لے۔تو جب اس نہج تک یہ صورت پہنچی تو پیرمحمد اشرف صاحب کو وہاں پر پہنچایا گیا اور انہوں نے آ کر کھلے بندوں اعلان کیا کہ یہ حماقت ہوگی کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہ کریں۔اس پر ایک شور مچ گیا اور یہ بات اخباروں میں آئی اور پھر گورنمنٹ نے اس پر تحقیقات شروع کی۔یہ ساری باتیں روزنامہ ”جنگ“ میں موجود ہیں۔14 جولائی 1984 ء کا اور 11 ستمبر 1997ء کے اخبار ” جنگ لاہور میں دیکھیں۔یہ سارے حقائق چھپے ہوئے ہیں۔صاف بات ہے کہ یہ خود یہودی ایجنٹ تھے اور یہودی ایجنٹ کے نام پر اشتعال پھیلانے کے لئے انہوں نے ہمارے نام یہ سارا پروپیگنڈہ کیا اور عجیب بد بخت یہ لوگ ہیں کہ اپنی اسکنٹی کو چھپانے کے لئے آج تک پھر وہی الزام دہرا رہے ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ گوئبلز (Goebbles) نے جس طرح یہ کہا تھا کہ اگر ایک الزام کو کئی مرتبہ دہرا دیا جائے تو وہ صداقت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ مولانا اجمل قادری بھی اسرائیل گئے حالانکہ کوئی پاکستانی اپنے پاسپورٹ پر وہاں نہیں جا سکتا۔اور اس شخص نے بھی یہی بات کہی۔تو یہ باتیں اب دنیا کے سامنے آ گئی ہیں۔دنیا اتنی اندھی نہیں ہے کہ ان حقائق کو نہ سمجھ سکے۔