اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 498
498 میں نے انہیں بتایا کہ طے تو یہی ہوا تھا کہ میں صرف تقاریر سنوں گا۔نیز میرے پاس تو تقریر بھی لکھی ہوئی نہیں۔بہر کیف ان کے کہنے پر میں نے وہیں بیٹھے جلدی سے اپنی تقرریکھی اور جب مجھے بلوایا گیا تو میں نے وہی تقریر پڑھ ڈالی۔تقریر اردو میں تھی اور میرا موقف مختصر آیہ تھا:۔وطن عزیز کا سب سے اہم مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے قائد اعظم کے نظریات سے انحراف کیا اور اب اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ بانی پاکستان کے نظریات کی طرف از سر نو رجوع کیا جائے۔اپنی تقریر کے دوران میں نے جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خصوصی طور پر حدود آرڈنینس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس کے تحت ( ثبوت کے مشکل معیار کی بنا پر) کسی مجرم کو سزا دے سکنا ممکن نہیں۔لہذا یہ قانون نمائشی ہے۔ہمارے ضابطوں پر محض سرخی پاؤڈر لگانے کے مترادف ہے اور ایسے قانون کو نافذ کر کے احکام البہی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔تقریر کے اختتام پر علماء حضرات نے شور وغل مچانا شروع کر دیا کہ گذشتہ چودہ سوسالوں میں کسی کو یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ احکام الہی کو کالعدم قرار دیا جائے۔( میں نے کب کہا تھا کہ احکام الہی کو کالعدم قرار دیا جائے لیکن بدقسمتی سے ہمارے علمائے کرام جب کوئی منطقی دلیل پیش نہ کرسکیں تو ایسی ہی تخیلی جذباتیت کا اظہار کر کے آپ کے پاؤں کے نیچے سے دری کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں )۔“ پھر کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق پہلے تو چند لمحے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے رہے اور علماء حضرات کے شور وغل سے لطف اٹھاتے رہے۔پھر یکدم اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور سنجیدہ لہجے میں فرمایا:۔علماء حضرات اطمینان رکھیں۔“ یہ کن کے الفاظ تھے؟ جنرل ضیاء الحق صاحب کے۔فرمایا:۔علماء حضرات اطمینان رکھیں۔ڈاکٹر جاوید اقبال کی