اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 495 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 495

495 بھی ہوتا جب اسلامی برکات سے متعلق اصلاحات نافذ کر کے ابتداء کی جاتی جن سے غربت اور افلاس کے خاتمے کے لئے اقدام اٹھائے جاتے۔مگر اس ضمن میں زکوۃ اور عشر وغیرہ کی وصولی سے متعلق جو اصلاحات نافذ کی گئیں۔ان سے حاصل کردہ رقوم میں بھی غین کی شکایات سننے میں آئیں اور مالی امداد مستحقین تک نہ پہنچ سکی۔“ اپنا گریبان چاک سنگ میل پبلیکیشنز لاہور صفحہ 175) پھر فرماتے ہیں ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب:۔” یہ 84ء کی بات ہے۔“ یہ وہی سال ہے جبکہ احمدیت کے خلاف اس ظالم اور غاصب نے رسوائے عالم آرڈینینس جاری کیا تھا۔فرماتے ہیں کہ اسی سال ( یعنی 1984 ء۔ناقل ) مجھے حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذہبی عدم رواداری“ کے موضوع پر ایک سیمینار میں شرکت کے لئے جینیوا ( سوئٹزر لینڈ ) بھیجا۔مجھے احساس تھا کہ اس سیمینار میں پاکستان نے احمدی اقلیت کے متعلق جو قانون سازی کر رکھی ہے اس پر بین الاقوامی برادری کے سامنے کوئی نہ کوئی تسلی بخش دینا پڑے گا۔اس لئے میں نے وزارت خارجہ سے بریف مانگی مگر وہ مجھے کچھ نہ دے سکے بلکہ جواب دیا کہ وزارت قانون سے پوچھوں۔میں نے شریف الدین پیرزادہ صاحب سے رابطہ کیا مگر وہاں سے بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔بالآخر میں نے سیمینار میں علامہ اقبال اور قائد اعظم کے فرمودات کے حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بانیانِ پاکستان مذہبی رواداری سے متعلق کیا خیالات رکھتے تھے۔مگر جینیوا میں احمدیوں کا مشن بھی سیمینار میں آبزرورز (Observers) کے طور پر حصہ لے رہا تھا۔انہوں نے مجھے احمدیوں سے متعلق جنرل ضیاء الحق کی مخصوص قانون سازی پر خوب لتاڑا بلکہ مجھ سے بین الاقوامی برادری کے