اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 492 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 492

492 آپ کا نام ایک بلند پایہ شخصیت کی حیثیت سے جانا جاتا ہے پاکستان میں بھی اور برصغیر میں بھی۔یہ دونوں حکمرانوں یعنی بھٹو صاحب اور ضیاء الحق صاحب سے بہت قریب رہے ہیں۔وہ ان دونوں فرعون صفت حکمرانوں کے حوالے سے کیا فرماتے ہیں؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔جزاکم اللہ۔یہ بھی بہت ہی معرکہ آراء سوال ہے۔جناب جسٹس ڈا کٹر جاوید اقبال کے قلم سے سنگ میل پبلی کیشنز لا ہور نے ایک مبسوط کتاب شائع کی ہے۔”اپنا گریبان چاک یہ محترم ڈاکٹر صاحب کی کتاب کا عنوان ہے۔خود نوشت سوانح حیات ہے جو ان کے قلم سے نکلی ہے۔اور یہ کتاب دراصل محض ان کی سوانح عمری نہیں بلکہ انہوں نے اپنے عہد کے سیاسی اور مذہبی حالات پر بھی بہت گہری نظر رکھتے ہوئے تبصرہ کیا ہے۔بعض مقامات پر ضمنا باتیں انہوں نے کی ہیں۔بعض مقامات پر کھل کر کی ہیں۔میں اس کتاب کے چند اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔اس کتاب کے صفحہ 162 پر لکھتے ہیں۔پاکستان میں جب بھی کسی حکومت کو گرانا مقصود ہوتو عموماً اسلام کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال میں لایا جاتا ہے۔بھٹو کی مخالف سیاسی جماعتوں کے کٹھ “ نے بھی نظام مصطفیٰ تحریک کے تحت ان سے زیادہ تر مذہبی مطالبات ہی کئے۔مثلاً احمدیوں کو اقلیت قرار دو، اتوار کی بجائے جمعہ کی چھٹی کرو، گھڑ دوڑ پر جو بند کرو،شراب بند کرو۔بھٹو نے اپنی کرسی محفوظ کرنے کی خاطر سب مطالبات مان لئے لیکن سیاسی جماعتوں کے ”کچھ“ کی تسلی نہ ہوئی۔دراصل ان کا مقصد کسی قسم کے اسلام کے نفاذ کا نہ تھا بلکہ کسی نہ کسی طریقہ سے بھٹو کو ہٹانا تھا۔“ (اپنا گریبان چاک صفحہ 162) اس کے بعد ایک حوالہ پڑھتا ہوں جس کا تعلق غاصب پاکستان، آمر پاکستان ، فرعون پاکستان ضیاء الحق کے ساتھ ہے۔جسٹس جاوید اقبال فرماتے ہیں کہ وو جنرل ضیاء الحق نے اقتدار غصب کرتے ہی ایک نئے تجربے کی