اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 488
488 حیرت کی بات ہے کہ زلزلہ کے آنے سے پہلے مظفر آباد اور ایبٹ آباد کی دیواروں کے اوپر احمدیت کے خلاف اشتعال انگیز پوسٹر موجود تھے۔اخبار السياسة“ نے لکھا کہ اس زلزلے کے بعد اب ان کا فرض ہے کہ ان حرکتوں سے تو بہ کریں۔يتوبوا الى الله مما حصل منهم من نقص في الطاعات او اقتراف للسيئات فان التوبة من اسباب رفع المصائب ان کا فرض ہے کہ جو غلطیاں تھیں اس سے اجتناب کریں اور جو گناہ کئے اس سے تائب ہو جائیں کیونکہ تو بہ ہی ہے جو مصیبتوں کو اٹھا دیتی ہے۔یہ ریمارکس تھے جو عرب کی صحافت نے کئے۔اخبار السیاسۃ 21 اکتوبر 2005 ء بمطابق 18 رمضان 1426ھ۔خلفائے احمدیت کے بیان فرمودہ حقائق کی قبولیت عام حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا ! آپ نے محترم حافظ انوار رسول صاحب (جو آپ کے شعبہ تاریخ میں کمپیوٹر سیکشن کے انچارج ہیں) کے حوالہ سے بیان فرمایا تھا کہ انہوں نے کچھ کتابیں آپ کو تحفہ دی ہیں تو ان میں سے کچھ اہم حوالہ جات افادہ عام کے لئے سنائیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔آپ نے کمال کر دیا ہے اتنا ذہن رسا رکھتے ہیں کہ ان کتابوں پر میرا خیال ہے ، اسی وقت سے نظر ہے کہ کم از کم ان کا بھی تعارف ہو جائے۔ایک کتاب کا نام ہے: پاکستان اور دنیا۔کون کیا ہے۔“ اس کے مصنف ہیں زاہد حسین صاحب، جہانگیر بک ڈپو لا ہور راولپنڈی ملتان کراچی۔دوسری کتاب ہے: فرقہ واریت ملی خود کشی یہ عنوان ہے اور مؤلف ہیں جناب قربان انجم صاحب۔پاکستان کے بہت مشہور اور نامور مؤلف اور دانشور۔اور کتاب کو شائع کرنے والے ہیں دارالتذکیر لاہور۔مکرم جاوید احمد غامدی