اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page v
رحمہ اللہ تعالیٰ ، حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب ، حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب اور حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب (مورخ احمدیت ) شامل تھے۔اس دوران حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب کی ڈیوٹی پارلیمنٹ میں اُٹھائے گئے سوالات نوٹ کرنے پر تھی۔آپ نے محنت سے ہر دن کے نوٹس لئے جو جماعتی تاریخ کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔کی درخواست پر 2006ء میں جبکہ ابھی حکومت پاکستان کی طرف سے قومی اسمبلی کی کاروائی کی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے موصوف سے اس کارروائی کے بارہ میں انٹرویوز لینے کی اجازت مرحمت فرمائی اور پھر یہ یادداشتیں اقساط کی صورت میں ایم ٹی اے کی زینت بنیں۔بعدہ مجلس نے افادیت کے پیش نظر انہیں تحریری صورت میں ڈھالا ، نوک پلک درست کی اور حوالہ جات چیک کروائے۔قارئین کی سہولت کے پیش نظر نظارت اشاعت کی ہدایات کی روشنی میں اصلاحات کی گئیں اور عناوین لگا کر مسودہ کی تبویب کی گئی ہے۔ان انٹرویوز میں حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب (مرحوم ) مؤرخ احمدیت نے اسمبلی میں ہونے والی کارروائی کی روئیداد، رذاتی مشاہدہ اور تبصرہ جات ریکارڈ کروائے ہیں۔یہ پروگرام 2007 ء میں ایم ٹی اے پر نشر ہوئے تھے۔انہی دنوں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 17 دسمبر 2007ء میں اس کی بابت ارشاد فرمایا: آج کل ایم ٹی اے پر ایک پروگرام مولانا دوست محمد صاحب شاہد دے رہے ہیں۔جو 1974 ء کی کی اسمبلی کے بارے میں حالات پر ہے۔وہاں ماشاء اللہ بڑی حقیقت بیانی ہورہی ہے۔خوب کھول کھول کر ان کے کچے چٹھے بیان ہور ہے ہیں اور مخالفین کے پاس ان کا جواب نہ اُس وقت تھا جب