اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page iv of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page iv

اوراق میں محفوظ ہیں کہ پڑھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہمدرد آنکھیں اشک بہائے بغیر ان سطور سے گزر نہیں سکتیں۔اس طویل مخالفانہ ظلم وستم کے بالمقابل خدا تعالی کی فعلی شہادت و تائید ہمیشہ جماعت احمد یہ کے ساتھ رہی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہر آزمائش اور مخالفت کے بعد جماعت احمدیہ کے افراد کے ایمان و ایقان کو ترقی دی ہے اور ہر امتحان کے بعد استقامت کی نئی سے نئی چوٹی سر کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔جماعت دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے خلفائے احمدیت کی راہنمائی میں برق رفتاری کے ساتھ منزل مقصود کی طرف اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔1974ء کا سال بھی جماعت احمدیہ کے لیے ایک کڑی آزمائش کا سال تھا۔اس وقت مقابل پر کوئی فرد نہیں بلکہ حکومت وقت تھی اور اس کی پشت پناہی پر کئی غیر ملکی حکومتیں کھڑی تھیں۔یہ خلافت ثالثہ کا دور تھا اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلفیۃ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے امام تھے۔حکومت پاکستان کی عنان اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سنبھالے ہوئے تھے۔انہیں اقتدار کی ہوس اور سیاسی مصالح اور بعض مسلمان طاقتوں کی انگیخت ولالچ نے آمادہ کیا کہ وہ اسلامی دنیا کے ہیرو بن سکتے ہیں۔اس کے لیے انہیں صرف نوے سالہ قادیانی مسئلہ حل کرنا ہوگا۔چنانچہ اس وقت با قاعدہ منصوبہ بندی کے تحت حکومت کی طرف سے جماعت احمدیہ کو پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے لیے مجبور کیا گیا تا کہ بعد میں یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ جماعت کو اپنے عقائد کے اظہار اور صفائی کا موقع دیا گیا تھا۔یہ تمام کارروائی خفیہ ( ان کیمرہ) تھی اس لئے اسے عام نہیں کیا گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی سربراہی میں ایک وفد پارلیمنٹ میں پیش ہوا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اور راہنمائی سے پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے والے سوالات کے حکمت و دانائی کے ساتھ مدلل جوابات دیئے اور مخالفین کو لا جواب کر دیا۔اس وفد میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب