اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 475
475 ہیں کہ سارے ہندوستان میں کسی نے اپیل نہیں کی۔یہ جوش اور درد اور رقت اور خدمت کا جذبہ طوفان کی طرح اگر بلند ہوا ہے تو حضرت مصلح موعودؓ کے قلب مطہر پر۔اس واسطے کہ عرش سے حضور کی ولادت سے پہلے فرمایا تھا کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔“ سے اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے تو فرماتے ہیں کہ حضور ہی کی آواز پر علامہ اقبال، سر ذوالفقار علی ، سید محسن شاہ ، خواجہ حسن نظامی ، سید حبیب اور حسرت موہانی جیسے لوگ اکٹھے ہوئے اور علامہ اقبال کی تجویز پر حضور سے زمامِ قیادت کی درخواست کی گئی اور حضور نے اپنے روحانی مقام کے باوجود جو لاکھوں کی جماعت کے دینی پیشوا ہونے کی حیثیت سے آپ کو حاصل تھا، محض اسلامی اخوت کے تقاضوں کے پیش نظر آپ نے اسے قبول فرمایا۔پھر لکھتے ہیں کہ جس وقت آپ نے یہ کٹھن کام اپنے ذمہ لیا“ یعنی حضرت مصلح موعودؓ نے ، اس وقت کشمیری باشندوں کی حالت کس قدر دردانگیز تھی اس کا نقشہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاس اوّل کی روداد میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے۔وہ الفاظ یہ ہیں:۔”ریاست میں اس وقت تک نہ پریس کی اجازت ہے۔(مسلمانوں کا کوئی پریس نہیں تھا۔) 66۔۔۔نہ تقریر کی ، نہ اجتماع کی اور کوئی ایسی صورت نہیں جس سے پُر امن طریق سے رعایا حکومت تک اپنے خیالات پہنچا سکے۔اس طرح مذہبی آزادی جو کہ تہذیب کا پہلا رکن ہے اس سے بھی کشمیری محروم ہے۔چنانچہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو جائے تو اس کی جائیداد ضبط کر لی جاتی ہے اور بیوی بچوں سے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے نیز زمین کے مالکانہ حقوق سے بھی وہ لوگ محروم ہیں کیونکہ زمینداروں کو خود اپنی زمین پر مالکانہ حقوق نہیں دیئے جاتے اور